انوارالعلوم (جلد 15) — Page 7
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی اور ا خلاقاً مجھے کوئی اختیار نہیں کہ میں اسے روکوں۔اگر کسی کو میری خلافت کے متعلق شبہ ہے تو اس کو نہ صرف جائز ہے بلکہ اس کے متعلق یہ پسندیدہ امر ہے کہ وہ وہاں جائے اور باتوں کا موازنہ کرے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن لوگوں نے تحقیق کر لی ہے اور قرآن وحدیث کے ماتحت میری بیعت کی ہے اور میری صداقت میں انہیں کسی قسم کا بہ نہیں وہ بھی وہاں جائیں اور تماشہ کے طور پر ان کے لیکچر میں بیٹھیں۔اگر ایسا جائز ہوتا تو ہمیں نظر آتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر بحث کے موقع پر پہنچ جاتے اور فرماتے کہ آؤ ہم تحقیق کریں اسلام سچا ہے یا نہیں ؟ یہودی لیکچر دیتے تو ان میں چلے جاتے کہ شاید یہودی مذہب سچا ہو، عیسائی لیکچر دیتے تو وہ سننے چلے جاتے اور کہتے کہ تحقیق کرنی چاہئے۔مگر کہیں سے بھی یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مجالس میں گئے ہوں بلکہ آپ اگر فرماتے ہیں تو یہ کہ ادْعُوا إلى اللهِ تَكَ عَلَى بَصِيرَة آنا و مَنِ اتَّبَعَنِي کے میں نے خدا کو دیکھ کر مانا ہے مجھے مزید تحقیق کی کیا ضرورت ہے۔پس جس نے مجھے مانا اور تحقیق کر کے مانا ہے اسے تماشہ کے طور پر وہاں جا کر وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ ان کا جانا بے فائدہ اور لغو ہے۔ہاں جس نے ابھی تک تحقیق نہیں کی اسے یقیناً جانا چاہئے۔دوسرے انہوں نے وہی بات کی ہے جو شیخ عبدالرحمن مصری کا لغومطالبہ حروری شے کیا کرتے تھے کہ بعض دفعہ ایک اچھی بات کہتے مگر ارادہ فساد اور شرارت کا ہوتا۔جیسے کل ہی میں نے بتایا تھا کہ وہ حضرت علی کی مجلس میں آجاتے اور نعرہ لگاتے کہ لَاحُكْمَ إِلَّا لِلهِ کہ حکم اللہ کا ہے اور مسلمانوں کو آپس میں مشورہ کر کے کام کرنا چاہئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ سنتے تو فرماتے كَلِمَةُ الْحَقِّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ بات تو تم سچی کہتے ہو مگر تمہاری غرض فتنہ و فساد ہے۔اسی طرح مصری صاحب نے مجھے انہی دنوں چٹھی لکھی کہ مجھے جلسہ سالانہ میں دو دن دو دو گھنٹے لیکچر کیلئے وقت دیا جائے اور اگر آپ نہ دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نہیں چاہتے کہ سچ ظاہر ہو۔میں نے انہیں لکھا کہ اگر ہم آپ کو اجازت دے دیں تو پھر ہر مذہب والا ہمیں کہہ سکتا ہے کہ مجھے بھی دود و گھنٹہ وقت دیا جائے اور اس طرح اگر ہم دو دو گھنٹے ہر مذہب والے کو دینے لگیں تو ہماری اپنی تقریروں کیلئے کونسا وقت باقی رہے اور اگر ہم نہ دیں تو وہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تم سچ چھپانا چاہتے ہو۔آریہ کہیں گے تم نے ہمیں چونکہ وقت نہیں دیا اس لئے معلوم ہوا کہ تمہیں سچائی سے غرض نہیں ، عیسائی کہیں گے کہ