انوارالعلوم (جلد 15) — Page 341
انوار العلوم جلد ۱۵ روس اور موجودہ جنگ جرمنی نگرانی کر سکتا ہے جس طرح انگلستان فرانسیسی برطانوی آبنائے کی نگرانی کر سکتا ہے۔بحیرہ بالٹک پر جرمنی کا قبضہ خصوصا جب سے کہ جرمنی نے ڈنمارک کے نیچے سے کیلے کی نہر نکال کر بحیرہ شمالی اور بالٹک کو ملا دیا ہے اس کے لئے یہ کام بہت زیادہ آسان ہو گیا ہے کیونکہ پہلے جرمنی کو دونوں سمندروں میں جہازی بیڑے رکھنے ضروری تھے اور ضرورت کے وقت ایک سمندر کا بیڑا دوسرے سمندر کے بیڑے کی مدد کو نہیں پہنچ سکتا تھا لیکن سابق جرمن امراء نے اس دقت کو دور کرنے کیلئے کیل کے مقام پر ایک نہر بنوا دی۔جس کے راستہ سے جرمنی کا بیڑا چند گھنٹوں میں بحیرہ شمالی سے بالٹک اور بالٹک سے بحیرہ شمالی کی طرف جا سکتا ہے۔اور اس طرح بالٹک پر جرمنی کا قبضہ بہت زیادہ مضبوط ہو گیا ہے پس سمندری سرنگوں اور اپنے بیٹڑے کی مدد سے انگلستان کے زبردست بیڑہ کے باوجود جرمنی اس قابل ہے کہ انگلستان کو بالٹک میں کسی مؤثر کارروائی کرنے سے روک دے۔پس پولینڈ جو بالٹک میں واقع ہے اس کی مدد انگلستان عام حالات میں ہرگز نہیں کر سکتا تھا۔خصوصاً ان حالات میں کہ پولینڈ کا اپنا کوئی محفوظ بندر گاہ نہ تھا اور ڈننگ جرمنی کے اثر کے ماتحت تھا۔اس کی امداد کی اور وہ بھی ناقص امداد کی یہی صورت ہوسکتی تھی کہ انگلستان ترکی اور رومانیہ کے تعاون سے بحیرہ اسود کے ذریعہ سے اسلحہ کی امداد پولینڈ تک پہنچائے۔پولینڈ کے جنوب میں رومانیہ ہے اور اس کے مشرق میں بحیرہ اسود ہے اور اس کے جنوب اور جنوب مغرب میں ترکی کا علاقہ اور درہ دانیال ہے۔انگلستان نے رومانیہ اور ترکی سے معاہدات بھی کر لئے تھے اس لئے جرمنی کے لئے یہ معلوم کرنا ضروری تھا کہ انگلستان اور فرانس کی پولینڈ کی امداد کے بارہ میں کیا تجاویز ہیں تا کہ ان کا پہلے سے تو ڑ سوچ لیا جائے۔روس کی غرض برطانوی سکیم کو معلوم کرنا تھی غرض جس وقت روس کی طرف سے فوجی تبادلۂ خیال پر زور دیا جانے لگا۔اس مطالبہ کے نامناسب وقت پر پیش ہونے کی وجہ سے میرے دل میں بڑے زور سے یہ خیال پیدا ہوا کہ در حقیقت پولینڈ کے بارہ میں روس اور جرمنی میں خفیہ بات ہو چکی ہے اور یہ فوجی افسران سے تبادلۂ خیالات کا اصرار محض برطانوی سکیم کے معلوم کرنے کی غرض سے ہے کیونکہ جب باہمی فوجی تعاون کے بارہ میں گفتگو ہوتی ہے تو سب پہلوؤں پر روشنی ڈالنی پڑتی ہے اور بہت سی مخفی با تیں ظاہر کرنی پڑتی ہیں۔