انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 326

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) کی ضرورت ہو تم اس سمندر میں غوطہ لگاؤ وہ چیز تمہارے ہاتھ میں آجائے گی۔پھر سمندر میں تو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ انسان غرق ہو جائے بعض دفعہ سمندروں میں طوفان آتے اور بڑے بڑے جہاز تباہ ہو جاتے ہیں مگر فرمایا یہ وہ سمندر ہے کہ هُدًى وَرَحْمَةٌ اس سمندر میں جو غوطہ لگائے وہ کبھی تباہ نہیں ہوسکتا اور سمندروں میں بڑے بڑے کپتان بھی بعض دفعہ راستہ بھول جاتے ہیں مگر یہ سمندر ہے کہ جہاں کوئی انسان رستہ بھولنے لگتا ہے وہ کہتا ہے کہ غلط راستے پر نہ جاؤ۔صحیح راستہ یہ ہے ادھر آؤ۔پھر یہ صرف هُدی نہیں بلکہ رَحْمَةٌ بھی ہے۔ان سمندروں میں تو لوگ ڈوبتے اور عذاب میں مبتلاء ہوتے ہیں مگر یہ وہ سمندر ہے جو انسان کو زندگی بخشتا اور اُسے ہر قسم کی تباہی سے محفوظ رکھتا ہے۔پھر اسی حد تک بس نہیں بلکہ بشرى لِلْمُسْلِمِينَ۔اس سمندر میں تیرنے والا ہمیشہ خوشی محسوس کرتا ہے اور کبھی کسی خطرہ سے اسے دو چار ہونا نہیں پڑتا۔اس کے آگے بھی رحمتیں ہوتی ہیں اس کے پیچھے بھی رحمتیں ہوتی ہیں۔جب ایک نعمت اسے مل جاتی ہے تو اُسے کہا جاتا ہے کہ اسی نعمت پر بس نہیں آؤ تمہیں دوسری نعمت بھی دیں۔اور جب دوسری نعمت مل جاتی ہے تو تیسری نعمت اس کے سامنے پیش کر دی جاتی ہے۔وہ ایک مقام پر اپنا قدم روکتا ہے تو اُسے آواز آتی ہے کہ صاحب ! ٹھہرتے کیوں ہیں، اگلی منزل پر اس سے بھی زیادہ اچھی نعمتیں ہیں اور جب وہ دوسری منزل پر پہنچتا ہے تو آواز آتی ہے کہ صاحب ! آگے بڑھیئے ہماری نعمتیں تو ابھی آپ نے دیکھی ہی نہیں سمندر میں تو جب انسان دو چار سو میل آگے جاتا ہے تو جہا ز خطرے میں گھر جاتا ہے مگر یہاں ہر قدم پر یہ آواز آتی ہے کہ گھبرائے نہیں ، آپ تو امن اور سلامتی کی طرف بڑھتے چلے آ رہے ہیں۔قرآنی سمندر کی وسعت پھر سورۃ لقمان رکوع ۳ میں اس سمندر کی وسعت بتائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَوَاتٌ مَا فِي الْأَرْضِ مِن شجرة أقلام وَالْبَحْرُ يَمُدُّه مِنْ بَحْرِه سَبْعَةُ ابْرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَتُ اللهِ اِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَکیم کے یعنی زمین میں جس قدر درخت ہیں اگر اُن تمام کو کاٹ کاٹ کر قلمیں بنادی جائیں اور جنگلوں اور باغات کا ایک درخت بھی نہ رہنے دیا جائے سب کی قلمیں تیار کر لی جائیں والتخريمده اور سمندر سیاہی بن جائے اور پھر اور سات سمندروں کا پانی بھی سیاہی بنا دیا جائے اور ان قلموں اور اس سیاہی سے کلام اللہ کے معنے لکھے جائیں تو ما نفدت حلمت اللہ قلمیں ٹوٹ جائینگی ، سات سمندروں کی سیاہی خشک ہو جائے گی ،