انوارالعلوم (جلد 15) — Page 4
انوار العلوم جلد ۱۵ پھر اسی اعلان کو میں نے ایک اور موقع پر اس طرح دُہرایا ہے کہ: جو شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور کسی ذاتی یا جماعتی مخالف پر ہاتھ انقلاب حقیقی اُٹھائے گا اُسے میں آئندہ فوراً جماعت سے خارج کر دوں گا“۔پس جب کہ یہ ہدایت آئندہ کے متعلق تھی اور میاں عزیز احمد کے فعل سے پہلے ایسی کوئی ہدایت میری طرف سے نافذ نہیں ہوئی تھی تو میاں عزیز احمد کو جماعت سے کس طرح خارج کیا جاتا۔اسی طرح جو دوسرا اعتراض کیا گیا ہے کہ احمدی وکیل میاں عزیز احمد کے مقدمہ کی پیروی کیوں کرتے ہیں یہ بھی قانونی نا واقفیت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔وکلاء کا فرض ہوتا ہے کہ خواہ انہیں کوئی اپنے مقدمہ کیلئے مقرر کرے وہ اس کے مقدمہ کی پیروی کریں اور یہاں تو ایک خاص بات بھی ہے اور وہ یہ کہ شیخ بشیر احمد صاحب نے یہ کیس اپنی طرف سے نہیں لیا بلکہ وہ گورنمنٹ کی طرف سے اس مقدمہ کی پیروی کیلئے مقرر ہیں اور ہائی کورٹ نے انہیں اپنی طرف سے فیس دے کر کھڑا کیا ہے کیونکہ گورنمنٹ نے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ اگر کوئی غریب شخص ملزم ہوا اور وہ اپنے وکیل کے اخراجات برداشت نہ کر سکتا ہو تو حکومت خود اُس کی طرف سے وکیل مقرر کرتی اور اُس کے اخراجات آپ برداشت کرتی ہے۔پس اگر عیسائی گورنمنٹ انصاف کا اتنا خیال رکھتی ہے کہ وہ اپنے خرچ پر ملزم کی طرف سے کسی کو وکیل مقرر کر دیتی ہے اور ملزم کو اپنی بر بیت ثابت کرنے کا موقع دیتی ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا ایک احمدی ملزم کی طرف سے وکیل کیوں کھڑا نہ ہو سکے۔جو حق حکومت کی طرف سے ہر مذہب کے غریب ملزموں کو حاصل ہے وہ یقیناً ایک احمدی کو بھی ملنا چاہئے اور اسی وجہ سے شیخ بشیر احمد صاحب اس مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں۔پس شیخ صاحب کو جماعت کی طرف سے نہیں کھڑا کیا گیا بلکہ ہائی کورٹ نے انہیں فیس دے کر خود کھڑا کیا ہے۔حضرت بابا نانک کو مسلمان دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ پچھلے دنوں ہمارے ایک مقدمہ کے دوران میں ایک کہنا اور ایک مجسٹریٹ مجسٹریٹ نے ایک وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ادب کے الفاظ تو میں استعمال کر رہا ہوں انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ اگر تمہارے محمد صاحب کو کوئی کافر اور غدار کہہ دے تو تم اسے کیسا سمجھو گے؟ اور تمہارا دل اس سے دُکھے گا یا نہیں دکھے گا ؟ اسی طرح باوانا تک صاحب کو مسلمان کہنے سے سکھوں کا دل دُکھتا ہے۔یہ طریق کلام اتنا نا شائستہ ہے کہ میں حیران ہوں اگر حکومت اپنے مجسٹریٹوں کو اس