انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 225

انوارالعلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیادین نہیں لائے کی عزت دنیا میں قائم ہو لیکن اگر حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ تسلیم کرنے میں نہ صرف رسول کریم ﷺ کی اہانت ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ذلت ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس عقیدہ سے بڑھ کر خطر ناک اور کوئی عقیدہ نہیں ہو سکتا۔اگر خدا تعالیٰ کی عزت کا سوال لو تو سیدھی بات ہے کہ اس عقیدہ کی رُو سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ۱۹ سو سال سے خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے کہ کہیں وہ ضائع نہ ہو جائے اور اصلاح خلق کا کام رُک نہ جائے گویا جس طرح غریب آدمی اپنی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے اسی طرح خدا نے بھی اپنی اس چیز کو خوب حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔آخر امیر اور غریب میں کیا فرق ہوتا ہے یہی فرق ہوتا ہے کہ غریب آدمی اگر صبح کی دال بچ جائے تو بیوی سے کہتا ہے اسے سنبھال کر رکھ دینا رات کو کام آئے گی۔یا سردیوں میں اگر اسے کوئی گرم کپڑا ملتا ہے تو سردیاں ختم ہونے پر نہایت حفاظت سے گٹھڑی باندھ کر رکھ دیتا ہے یا صندوقوں میں حفاظت سے اسے بند کرتا ہے کہ اگلی سردیوں میں وہ کپڑے کام آئیں۔روٹیاں بچ جاتی ہیں تو وہ رکھ لیتا ہے۔اس کے مقابلہ میں امیر آدمی کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ چند دن کپڑا پہنتا ہے اور پھر یہ خیال کر کے کہ خدا نے چند دن نیا کپڑا پہنے کی توفیق دے دی ہے اب غریبوں کا بھی کچھ حق ہے وہ اس کپڑے کو اٹھاتا اور کسی غریب کو دیدیتا ہے۔کھانا پکتا ہے تو جتنا کھانا آسانی سے کھایا جا سکے وہ کھا لیتا ہے اور باقی نوکروں کو دیدیتا ہے۔یا ان کی بیگمات ار در گرد کے غریبوں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔وہ ان کپڑوں یا اس کھانے کو سنبھال کر نہیں رکھتے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جب ضرورت ہو گی ہم نئی چیز تیار کر لیں گے مگر اللہ تعالیٰ جو قادر ہے اور جس کی قدرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب بھی دین کیلئے کسی نئی چیز کی ضرورت ہو وہ اپنی قدرت سے اس نئی چیز کو مہیا کر دے۔اس کے متعلق مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس نے انیس سو سال سے حضرت عیسی علیہ السلام کو سنبھال کر آسمان پر زندہ رکھا ہوا ہے محض اس لئے کہ امت محمدیہ کو جب آخری زمانہ میں دینی لحاظ سے نقصان پہنچا تو میں اس کے ازالہ کیلئے اسے آسمان سے نازل کروں گا۔گویا وہی کنگالوں والی بات ہوئی جو صبح کی دال بیچا کر شام کے لئے رکھ لیتے ہیں۔آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کون سے کارنامے سرانجام دیئے تھے کہ آخری زمانہ میں بھی انہی کا بھیجا جانا خدا کو پسند آیا۔انہوں نے دنیا میں یہی کام کیا کہ چند روز لوگوں کو تبلیغ کی اور جب یہود نے صلیب پر لٹکانا چاہا تو آسمان پر چلے گئے۔اس میں انہوں نے کونسی ایسی کامیابی حاصل کی تھی کہ آخری زمانہ میں بھی ان کا نزول ضروری تھا۔جو شخص آسمان پر چلا گیا اس نے