انوارالعلوم (جلد 15) — Page 201
انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ وار یوں کو سمجھو میں تھوڑا سا فرق ہوتا ہے مثلاً بعض حصے عورتوں کے اور قسم کی غذا چاہتے ہیں اور مردوں کے اور قسم کی۔مثلاً عورتوں کے جسم پر چربی زیادہ آ جاتی ہے اس لئے عورتیں سردی زیادہ برداشت کر سکتی ہیں اور یہ اس لئے ہے کہ عورت اپنے بچوں کو دودھ پلا سکے تو اس طرح خدا تعالیٰ نے بچے کی حفاظت فرما دی۔تو یہ صرف خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت فرق ہے۔اسی طرح مرد اور عورت میں اللہ تعالیٰ نے یکساں طور پر ترقی کرنے یعنی عقل کا مادہ رکھا ہے۔نہ مرد کہہ سکتا ہے کہ عقل اور دماغ مجھے ہی دیا اور نہ عورت ایسا دعویٰ کر سکتی ہے۔اسی طرح زبان مرد و عورت کو ایک سی دی ہے۔اگر مرد بڑے بڑے مقرر ہوتے ہیں تو عورتیں بھی۔ہاتھ پاؤں وغیرہ بھی اللہ تعالیٰ نے دونوں کو برابر دیئے ہیں مگر قوتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرق رکھا ہے۔بعض قوتیں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زیادہ دی ہیں اور عورتیں میں کم ہیں۔مثلاً اعصاب کی طاقت مرد میں عورت کی نسبت بہت زیادہ ہے۔مرد عورت کی نسبت بہت زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے۔مگر اس کے مقابل میں عورت میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی طاقت بہت زیادہ رکھی ہے۔صبر سے مراد ایک مشکل کو لمبے عرصے تک برداشت کرنا ہے۔یہ طاقت مرد میں یا تو ہے ہی نہیں یا بالکل کم ہے۔اس کی موٹی مثال بچے کی ہے۔بچہ روتا ہے چلاتا ہے مگر عورت کے ماتھے پر بل تک نہیں پڑتا ، سو میں سے ایک مرد ہو گا جو عورت کا یہ کام کرے گا۔اس معاملہ میں عورت کا دل خدا تعالیٰ نے پہاڑ بنایا ہے۔دنیا کے بڑے سے بڑے فلاسفر کو ایک دن کیلئے ایک بچہ دے دو شام تک وہ نیم پاگل ہو جائے گا۔اس کے مقابلہ میں سفر میں ، جنگ میں مرد ہی کام آتے ہیں۔یہاں پر عورت کتنی ہی ہوشیار کیوں نہ ہوگھبرا جائے گی حالانکہ بچوں کی پرورش کے معاملہ میں جاہل سے جاہل عورت عظمند سے عقلمند مرد سے زیادہ معاملہ فہم اور عقلمند ثابت ہوگی۔یہ طاقت عورتوں میں اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ مردوں میں مقابلہ اس کا سینکڑواں حصہ بھی نہیں۔مردوں میں بھی بعض ایسے ہوتے ہیں جو بچے پالنا جانتے ہیں۔میں نے اپنے تجربہ میں کئی ایسے آدمی دیکھتے ہیں جنہوں نے بچوں کی پرورش اچھی طرح کی۔مثلاً ایک مرد کی بیوی مرگئی تھی اس کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی اس نے دوسری شادی نہیں کی اور خود اپنے بچوں کی پرورش کی۔اسی طرح ہمارے ایک دوست قادیان کے ہیں پیر افتخار احمد صاحب، یہ حضرت خلیفہ اول کے سالے اور منشی احمد جان صاحب کے بیٹے ہیں، منشی احمد جان صاحب کو خدا تعالیٰ نے ایسی بصیرت عطا کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی دعوی مسیحیت بھی نہیں کیا تھا کہ انہوں نے حضور کو لکھا