انوارالعلوم (جلد 15) — Page 175
انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب یعنی میرے لئے گرسی مت رکھو کہ میں دنیا میں خدمت کیلئے پیدا کیا گیا ہوں اسی طرح تم بھی گرسیوں پر بیٹھنے کے متمنی نہ بنو بلکہ ہر مسکین اور غریب سے ملو اور اگر تمہیں کسی غریب آدمی کے پاؤں سے زمین پر بیٹھ کر کا نٹا بھی نکالنا پڑے تو تم اسے اپنے لئے فخر سمجھو۔خود تقوی حاصل کرو اور جماعت کے دوستوں سے مل کر ان کو فائدہ پہنچاؤ اور جو علم تم نے سیکھا ہے وہ ان کو بھی سکھاؤ۔مل کر میں نے اس لئے کہا ہے کہ انگریز بھی کہتے ہیں کہ ہم ہندوستانیوں کو پڑھاتے ہیں۔مجھے کئی دفعہ ان سے ملنے کا موقع ملا ہے جب وہ یہ کہتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ تم لوگ ہم میں مل کر نہیں پڑھاتے بلکہ اپنے آپ کو کوئی باہر کی چیز خیال کر کے ہماری تربیت کرتے ہو اس لئے اس کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔پس میں تم کو مل کر تربیت کرنے کیلئے کہتا ہوں۔جماعت میں بعض کمزور دوست بھی ہوتے ہیں ان میں اسلام کی حقیقی روح کا پیدا کرنا بہت ہی ضروری کام ہے۔جماعت کو علوم دینیہ سے واقف کرنا ،عرفانِ الہی کی منازل آگاہ کرنا ، خدمت خلق، محبت الہی اور اسلام کی حکمتوں کا بیان کرنا بہت بڑا کام ہے۔اسی طرح جماعت میں ایثار اور قربانی کی روح پیدا کرنا بھی ایک ضروری کام ہے۔یہ ایسے کام ہیں جن سے تم لوگوں کی نظروں میں معتزز ہو جاؤ گے۔جماعت میں کئی آدمی اخلاق کے لحاظ سے کمزور ہیں ان کو اخلاق کی درستی کی تعلیم دو، اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق جو تحریک جماعت میں ہوتی ہے اس کو کامیاب بنانے کی کوشش کرو، بعض لوگ رسم و رواج میں مبتلاء ہوتے ہیں ان کو ان رسوم سے چھڑانے کی کوشش کرو بے شک اس کام کو سرانجام دینے میں بڑی مشکلات ہیں جیسے نئے بچھیرے پر زین باندھا جاتا ہے تو وہ بھاگتا ہے گو دتا ہے اس لئے کہ اس کو عادت نہیں ہوتی حالانکہ اس پر زین باندھنا اس کی خوبصورتی اور قیمت کو زیادہ کرنے کیلئے ہوتا ہے مگر چونکہ وہ اس کو سمجھتا نہیں اس لئے بھاگتا ہے لیکن جب وہ عادی ہو جاتا ہے تو وہی گھوڑا جو سو دوسو کا ہوتا ہے بعد میں پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ دو لاکھ تک اس کی قیمت پہنچ جاتی ہے۔ہماری جماعت کے جولوگ رسم ورواج کے مرض میں گرفتار ہیں ان کو اس سے آزاد کرنا بالکل ایسا ہی ہے۔پس تم پر بڑی ذمہ واریاں ہیں جن کو پورا کرنے سے تم حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہو مگر یہ عزت حاصل کرنا اس وجہ سے نہیں کہ تم میری اولاد ہو اور نہ اس وجہ سے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جسمانی تعلق کے علاوہ رسول کریم ﷺ جو آپ کے آقا ہیں ان سے بھی جسمانی تعلق کسی کی حقیقی عزت نہیں