انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 170

انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب کہ مجھے تو اس کا علم نہیں تھا۔انہوں نے اخباروں میں مجھے میری تصاویر دکھائیں جن کے نیچے پرنس لکھا ہوا تھا۔ان مستورات نے میرا لباس دیکھ کر ہنسنا شروع کیا تو وہ انگریز جو اصل میں تو یونانی تھا اور لمبے عرصہ سے انگلستان میں رہنے کی وجہ سے انگریزی تمدن اختیار کر چکا تھا اُس کے منہ سے غصہ کی وجہ سے جھاگ نکلنے لگ گئی اور کہنے لگا کہ یہ لوگ کس قدر نالائق ہیں ان کو بات کرنی نہیں آتی۔وہ غصہ میں اس قدر بڑھ گیا کہ قریب تھا کہ وہ اُن سے لڑ پڑتا۔میں نے فرانسیسی کو جو میرے پاس ہی بیٹھا تھا کہا کہ اس کو سمجھائیں کہ یہ مجھے دیکھنے آئی ہیں نہ کہ تمہیں تمہیں کیوں اس قدر غصہ آتا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد اس فرانسیسی نے دو لفافے جن میں میوہ تھا نکالے اور کہا کہ کھائیے۔اُس نے بہت اصرار کیا کہ ضرور کھاؤ۔وہ انگریز پھر لال سُرخ ہو گیا کہ یہ کس قدر بد تہذیب ہے ایک تو واقف نہیں دوسرے بے وقت چیز کھاتا ہے۔اسی طرح امریکہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا تمدن علیحدہ علیحدہ ہے۔ہمارا تمدن اسلامی تمدن ہے اور وہی حقیقی تمدن ہے جسے رائج کرنا چاہئے۔پھر میں ناصر احمد اور مبارک احمد کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے لئے ملازمت کرنے کے بغیر ہی دین کی خدمت کرنے کے مواقع موجود ہیں۔انہیں ان مواقع سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور سب سے پہلی بات جو ان کو یا درکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا رتبہ احمدی ہونے کا ہے۔وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے جماعت کی دولت لوٹ لی ہے اور وہ لوگ بھی جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نواب زادے ہیں یہ دونوں قسم کے لوگ جھوٹے ہیں ہم نے کبھی کسی کا روپیہ نہیں کھایا اور نہ ہی ہم نواب زادے ہیں۔پس تم احمدی ہونے کے سوا کسی اور وجہ سے کسی قسم کی فضیلت دوسروں پر نہیں رکھتے۔جو دوسروں کا مارا ہوا شکار کھاتا ہے وہ معزز نہیں ہوتا۔میرے کسی فعل کی وجہ سے یا جو عزت اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے اس کی وجہ سے صرف تمدنی طور پر تمہیں فائدہ ہوسکتا ہے ورنہ حقیقی طور پر اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔یہ چیزیں حقیقی طور پر صرف میری ذات سے وابستہ ہیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹا ہونے کی وجہ سے حقیقی طور پر عزت حاصل نہیں۔وہ عزت تو تب ہوتی اگر میں اُن کی ماموریت میں شریک ہوتا اور میں اُن کی ماموریت میں شریک نہیں اور نہ کوئی شریک ہو سکتا ہے البتہ تمدنی حیثیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹا ہونے کی وجہ سے لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔