انوارالعلوم (جلد 15) — Page 152
انوار العلوم جلد ۱۵ اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو۔۔آئینہ ہے۔اس کے لفظ لفظ سے خدا تعالیٰ کی شان ٹپکتی اور اس کے حرف حرف سے اللہ تعالیٰ کے وصال کی خوشبو آتی ہے۔کونسی کتاب ہے جو اس کے مقابلہ میں ٹھہر سکتی ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض ایسے لوگ ہیں جو اس کی آیات پر سے گزر جاتے ہیں اور ان کو اس کے معارف اور دقائق کی طرف کوئی توجہ پیدا نہیں ہوتی۔وہ قرآن کریم سنتے ہیں اور بعض دفعہ سُبْحَانَ اللَّهِ اور اَلْحَمْدُ لِله بھی کہہ دیتے ہیں مگر جب وہ اپنی مجلسوں میں جاتے ہیں تو ٹھٹھا اور ہنسی اور تمسخر ان کا شیوہ ہوتا ہے اور ان کی زندگیاں بالکل ضائع چلی جاتی ہیں وہ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ خدا تعالیٰ نے ان کو کیوں پیدا کیا ہے وہ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ ان کے دنیا میں آنے کا کیا مقصد ہے۔بہر حال اسلام خدا تعالیٰ کا ایک نور ہے جو دنیا میں ظاہر ہوا مگر پھر ایک وقت آیا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ایمان ثریا پر اُٹھ گیا اور اسلام کی تعلیم لوگوں نے پس پشت ڈال دی اس وقت خدا تعالیٰ نے ایک اور انسان کو دنیا میں بھیجا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی جا پہنچے گا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ دنیا کی بہتری اور فائدہ کے لئے اسے پھر واپس لوٹائیں گے اور قرآن کریم نے بھی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا و اخرينَ مِنْهُم لَمّا يلحقوا بهم گے کہ اسلام کی خدمت کے لئے آخرین میں سے ایک جماعت کھڑی کی جائے گی جس کے اندر بروزی رنگ میں پھر رسول کریم ہے اسی طرح کام کریں گے جس طرح آپ نے اولین میں کام کیا۔ان پیشگوئیوں کے مطابق خدا تعالیٰ نے اپنے مامور کو دنیا میں بھیجا اور اسے کہا کہ جاؤ اور قرآن کریم کے نور کو دنیا میں پھیلا ؤ جاؤ اور ہماری صداقت سے ساری دنیا کو روشناس کراؤ۔وہ آیا اور اس نے خدا تعالیٰ کے نور کو دنیا میں قائم کیا اور ایک ایسی جماعت اپنے انفاس قدسیہ سے اس لئے تیار کر دی جو اس کی ہر آواز پر لبیک کہنا اپنی انتہائی سعادت سمجھتی ہے۔اس جماعت پر پھر وہی ذمہ داریاں عائد ہو گئیں جو صحابہ پر عائد تھیں اور اس سے بھی انہی کاموں کی توقع کی جانے لگی جو صحابہ نے سرانجام دیے تھے۔چنانچہ پھر وہی قرآنی محسن دنیا میں ظاہر ہونے لگا، پھر وہی قرآن جو مذہبی کتابوں میں سب سے چھوٹی کتاب ہے اور جسے بعض لوگوں نے ایسی چھوٹی تقطیع پر چھاپا ہے کہ ایک مٹھی کے اندر دو قرآن شریف آ جاتے ہیں ساری دنیا کے علوم اور معارف کا خزینہ نظر آنے لگا۔میں ساری دنیا میں نہیں پھرا مگر میرے نائب ساری دنیا میں پھرے ہیں اور میں خود بھی قریباً نصف کرہ ارض میں پھرا ہوں مگر قرآن کریم کے علوم کے مقابلہ میں میں نے دنیا کی کسی کتاب میں کوئی