انوارالعلوم (جلد 15) — Page 111
انوار العلوم جلد ۱۵ صلى الله انقلاب حقیقی نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک سواری پر کھڑے ہو کر یہ وحی الہی سنائی اور فرمایا یہ خدا کی آخری امانت تھی جو میں نے تم تک پہنچا دی۔پھر آپ نے فرمایا هَل بَلَّغْتُ ؟ کیا خدا کا یہ پیغام میں نے تمہیں پہنچادیا ہے؟ صحابہ نے عرض کی بَلَّغْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ۔اے خدا کے رسول آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا۔پھر آپ نے فرمایا میں اپنی امانت سے سبکدوش ہوتا ہوں۔میں بھی آج اس امانت سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے سپرد کی گئی تھی سبکدوش ہوتا ہوں۔کیونکہ میں نے آپ لوگوں کو بتا دیا ہے کہ خدا نے جو تمہیں شریعت دی ہے وہ صرف لَا إِلهُ إِلَّا اللہ کہنے تک محدود نہیں بلکہ وہ مذہب اور اقتصاد اور سیاست اور معاشرت اور اخلاق اور تمدن اور تہذیب اور دوسری تمام باتوں پر حاوی ہے۔اب یہ علماء کا کام ہے کہ وہ قرآن اور احادیث سے ان مسائل کو نکالیں اور دنیا کے سامنے انہیں کھول کر رکھ دیں۔پس ہر علم کے متعلق کتابیں لکھی جائیں اور بہت جلد لکھی جائیں تا لوگ ان سے فائدہ اُٹھا سکیں بلکہ بعض کتابیں سوال و جواب کے رنگ میں لکھی جائیں جیسے پرانے زمانہ میں پنجاب کے بعض علماء نے پکی روٹی اور مٹھی روٹی وغیرہ لکھیں تا جماعت کا ہر شخص ان کو اچھی طرح ذہن نشین کر لے اور پھر اس کے بعد جماعت کا فرض ہے کہ وہ ان باتوں پر عمل کرے۔بیشک آج ہم وہ کام نہیں کر سکتے جو حکومت اور بادشاہت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مگر وہ باتیں جو ہمارے اختیار میں ہیں ان پر آج سے ہی عمل شروع ہو جانا چاہئے اور پھر آئندہ قریب زمانہ میں جوں جوں شریعت کے احکام تفصیل سے لکھے جائیں ان تمام احکام کو عملی رنگ دیتے چلے جانا چاہئے اور جماعت ان کو یاد کرتی چلی جائے تا یہ نہ ہو کہ وہ صرف چندہ دے کر یہ سمجھ لے کہ اس کا کام ختم ہو گیا بلکہ اسلام کے تمام احکام پر عمل اس کی غذاء ہو اور سنت و شریعت کا احیاء اس کا شغل ہو۔یہاں تک کہ دنیا تسلیم کرے کہ سوائے اس حصہ کے جو خدا تعالیٰ نے چھین کر انگریزوں کو دے دیا ہے باقی تمام امور میں جماعت احمدیہ نے فی الواقع ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنادی ہے اور ہم میں سے ہر شخص جہاں بھی پھر رہا ہو دنیا اسے دیکھ کر یہ نہ سمجھے کہ یہ بیسویں صدی میں انگریزوں کے پیچھے پھرنے اور مغربیت کی تقلید کرنے والا ایک شخص ہے بلکہ یہ سمجھے کہ یہ آج سے تیرہ سو سال پہلے محمد ﷺ کے زمانہ میں مدینہ کی گلیوں میں پھر رہا ہے۔اے دوستو ! میں نے خدا تعالیٰ کا حکم آپ لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا سوال کوئی معمولی سوال نہیں۔آپ لوگوں نے اقرار کیا ہے کہ آپ ہر تکلیف اور ہر مصیبت اُٹھا کر