انوارالعلوم (جلد 15) — Page 46
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ہوتا ہے کہ جس فعل کو فرشتے عجیب خیال کرتے ہیں وہ خود آدم کا فعل ہے نہ کسی دوسرے شخص کا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ کیا تو اس دنیا میں ایسے وجود کو پیدا کرنے لگا ہے جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور دوسرا امر الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فساد اور خونریزی خود خلافت کے مفہوم سے ہی ظاہر ہوتی ہے اور یہ کہ جس فساد کی طرف فرشتے اشارہ کرتے ہیں وہ کوئی ایسا فعل ہے جو خلیفہ بنانے کی اغراض میں شامل ہے۔گویا فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ آدم سے کوئی ایسا کام کروائے گا جو بظا ہر فساد اور سفک دم نظر آتا ہے جس پر وہ تعجب کرتے ہیں کہ خدا کا خلیفہ اور فساد اور سفکِ دم کا مرتکب ؟ یہ کیسی عجیب بات ہے؟ سوال کے ان پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر دیکھو تو آدم کا جو مقام میں نے ظاہر کیا ہے اس کے ساتھ اس سوال کو پوری تطبیق حاصل ہے۔میں نے بتایا ہے کہ آدم جس کا ذکر سورہ بقرہ میں ہے نسلِ انسانی کا پہلا باپ نہیں بلکہ شریعت کے ادوار کے پہلے دور کا مؤسس ہے اور جیسا کہ قرآن سے استنباط کر کے میں نے بتایا ہے وہ دور دور تمدن تھا یعنی اُس دور میں پہلی دفعہ تمدن کو دنیا سے روشناس کرایا گیا تھا۔آدم سے پہلے انسان تمدن اور نظام کا جوا اپنی گردن پر اُٹھانے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا مگر اُس وقت چونکہ انسان میں یہ قابلیت پیدا ہوگئی اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے اصلح وجود کو نبوت کا مقام دے کر دور تمدن کا بانی بنایا اس کے اجراء کا حکم دیا، اسی دور میں عورت اور مرد میں زوجیت کے اصول پر رشتہ اتحاد کا رواج ڈالا گیا۔ورنہ جیسا کہ ظاہر ہے چونکہ اس سے پہلے انسان میں تمدنی قواعد کی اطاعت کا مادہ نہ تھا اُس وقت تک ازدواج کے متعلق کوئی اصول مقرر نہ تھے۔- اس نکتہ کو اچھی طرح سمجھ لینے کے تخلیق آدم پر فرشتوں کے سوال کی وجہ بعد فرشتوں کے سوال کا مطلب واضح ہو جاتا ہے۔جب تک تمدنی نظام نہ ہو ہرقسم کا قتل اور غارت ایک بُرائی کا رنگ رکھتا ہے اور گناہ کہلاتا ہے لیکن جو نبی نظام حکومت قائم ہو بعض قسم کی لڑائیاں اور قتل جائز اور درست ہو جاتے ہیں۔مثلاً جو لوگ حکومت کی اطاعت نہ کرتے ہوں ان کے خلاف جنگ جائز سمجھی جاتی ہے جو فساد کرتے ہوں ان کا قتل جائز سمجھا جاتا ہے اور تمام حکومتیں ایسا کرتی ہیں بلکہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔پس جب آدم کے خَلِیفَه فِی الْأَرْضِ بنانے کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا تو ملائکہ نے