انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 508

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده نہیں۔پھر بنو امیہ کے زمانہ میں حضرت علی کو بدنام کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں اور بنو عباس کے زمانہ میں حضرت عثمان پر بڑا لعن طعن کیا گیا مگر باوجود اس کے کہ یہ کوششیں حکومتوں کی طرف سے صادر ہوئیں اور انہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں اُن کو بد نام کرنے اور اُن کے ناموں کو مٹانے کی بڑی کوشش کی پھر بھی یہ دونوں خلفاء دُھلے ڈھلائے نکل آئے اور خدا نے تمام عالم اسلامی میں ان کی عزت و توقیر کو قائم کر دیا۔خوف کو امن سے بدلنے کی پیشگوئی (۵) پانچویں علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ وليبة لنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا کہ وہ اُن کے خوف کے بعد اُن کے خوف کی حالت کو امن سے بدل دیتا ہے۔بعض لوگ اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ وہ ہر تخویف سے محفوظ رہتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی کو چونکہ خلافت کے بعد خوف پیش آیا اور دشمنوں نے انہیں شہید کر دیا اس لئے حضرت ابو بکر کے سوا اور کسی کو خلیفہ راشد تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے بھی اس بات پر بڑا زور دیا ہے اور لکھا ہے کہ اصل خلیفہ صرف حضرت ابو بکر تھے۔حضرت عمر حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کی خلافت آیت استخلاف کے ماتحت نہیں آتی۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ یہ غلطی لوگوں کو صرف اس لئے لگی ہے کہ وہ قرآنی الفاظ پر غور نہیں کرتے۔بیشک خوف کا امن سے بدل جانا بھی بڑی نعمت ہے لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وليبدلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدَ الخَوْفِ آمَنَّا کہ جو بھی خوف پیدا ہوگا اُسے امن سے بدل دیا جائے گا بلکہ فرمایا وَلَيُبَةٍ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خوفهم آمنا کہ جو خوف اُن کے دل میں پیدا ہوگا اور جس چیز سے وہ ڈریں گے اللہ تعالیٰ اُسے دُور کر دے گا اور اُس کی جگہ امن پیدا کر دے گا۔پس وعدہ یہ نہیں کہ زید اور بکر کے نزدیک جو بھی ڈرنے والی بات ہو وہ خلفاء کو پیش نہیں آئے گی بلکہ وعدہ یہ ہے کہ جس چیز سے وہ ڈریں گے اللہ تعالیٰ اُسے ضرور دُور کر دے گا اور اُن کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ سانپ بظاہر ایک بڑی خوفناک چیز ہے مگر کئی لوگ ہیں جو سانپ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں ایسے لوگوں کیلئے سانپ کا خوف کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اسی طرح فقر ایک بڑی خوف والی چیز ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔اب اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہو کہ کھانے کیلئے اگر ایک وقت کی روٹی بھی نہ ملے تو یہ بڑی ذلت کی بات ہوتی ہے تو کیا اُس کے اس خیال کی وجہ