انوارالعلوم (جلد 15) — Page 373
انوار العلوم جلد ۱۵ مستورات سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اپنا ایڈریس پیش کرنے کا موقع دیا۔چنانچہ خاتون موصوفہ نے اپنا ایڈریس انگریزی زبان میں حضور کی خدمت میں پیش کیا اور حضور نے انگریزی میں ہی اس کا موزوں جواب دیا۔بعد ازاں فرمایا:۔یہ ہماری نومسلمہ بہن ہے جس کا نام سلیمہ ہے۔یہ انگلستان کی رہنے والی ہیں۔ان کی تار مجھے صبح ملی تھی کہ وہ آ رہی ہیں اور انہیں اپنا ایڈریس سنانا ہے۔دس بجے آنے کا خیال تھا لیکن وقت پر نہ پہنچ سکیں۔تم نے دیکھا ہے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ انہوں نے بسم اللہ پڑھی ہے۔تم میں سے بہت کم ہوں گی جو اس رنگ میں صحیح بسم اللہ پڑھ سکتی ہوں۔انگریز لوگ عربی نہیں پڑھ سکتے پھر یہ کیسے افسوس کی بات ہے کہ عیسائی عورت تو اس خوبصورتی سے پڑھے اور تم اس ملک کی ہوکر بسم اللہ صحیح نہ پڑھ سکو۔یہ چند باتیں بطور نصیحت میں نے مختصر بیان کر دی ہیں کیونکہ آج اس قسم کی مصروفیت ہے کہ میرے لئے لمبی تقریر کرنا مشکل ہے۔دوسرے مردوں میں جو میری تقریر ہوتی ہے وہ بھی چونکہ لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ عورتیں سن سکتی ہیں اس لئے بظاہر کسی علیحدہ تقریر کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن چونکہ رسول کریم ﷺ کبھی کبھی عورتوں میں تقریر فرمایا کرتے تھے اس لئے باوجود لاؤڈ سپیکر کے میں نے اس سلسلہ کو جاری رکھا۔اسی سنت کے ماتحت میں آج بھی ایک مختصری تقریر کر دینا چاہتا ہوں۔اس کے بعد حضور نے مستقل تقریر فرمائی جو درج ذیل کی جاتی ہے۔تشہد وتعوذ کے بعد حضور نے حسب ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی :۔وَالَّذِينَ لا يَشْهَدُونَ الزُّورَ ، وَاِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا والَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِايَتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمَّاةٌ عُمْيَانًا ) وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِما ما ه أوليْكَ يُجْزَوْنَ الغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلْقَوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وسلما ه خَلِدِينَ فِيهَا ، حَسُنَتْ مُسْتَقَرا و مقامات قُلْ ما۔يكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ - فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَا مَّا - اس کے بعد فر مایا:۔بعض مرضیں بعض قوموں میں زیادہ ہوتی ہیں۔مثلاً ہمارے ملک میں سینکڑوں خون ہر سال