انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 6

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی میں نے اسے لکھا کہ میں نے تو کوئی گالی نہیں دی میں نے تو اگر کا لفظ استعمال کر کے بعض سوالات دریافت کئے تھے۔گورنمنٹ کو متوجہ کیا جائے میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ایسے امور کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلائے اور پورے زور سے توجہ دلائے۔کسی نے کہا تھا کہ مجسٹریٹ صاحب یہ الفاظ واپس لینے کیلئے تیار ہیں۔میرے پاس جب یہ پیغام پہنچا تو میں نے کہا ہمیں تو کسی سے دشمنی نہیں ہم تو ہر ایک کی عزت کرتے ہیں اگر گورنمنٹ کے آفیسر ز صیح طریق پر چلیں تو ہم انہیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھانے کیلئے تیار ہیں اور اگر وہ یہ الفاظ واپس لے لیں تو ہمیں اس سے بڑی خوشی ہوگی اور ہم سمجھیں گے کہ معاملہ ختم ہو گیا۔مگر بعد میں میں نے سنا کہ انہوں نے الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں صرف یہ کہنے کیلئے تیار ہوں کہ ان الفاظ سے میری نیت بہتک کی نہیں تھی اپنے الفاظ واپس لینے : کیلئے تیار نہیں۔معلوم ہوا ہے پیرا کبر علی صاحب نے اس کے متعلق اسمبلی میں سوال بھیجا ہے۔اتنے حصہ کے متعلق میں انہیں جَزَاكُمُ الله کہتا ہوں مگر اتنا ہی کافی نہیں حکومت کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ اس بارے میں ضروری کارروائی کرے۔اگر مسلمان ممبر یہ تہیہ کر لیں کہ جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس ہتک کا ازالہ نہیں کیا جائے گا اور ہتک کرنے والے مجسٹریٹ کو سزا نہیں دی جائے گی اُس وقت تک وہ کونسل کا کام چلنے نہیں دیں گے تو میں سمجھتا ہوں حکومت اس معاملہ کی طرف جلد متوجہ ہوسکتی ہے۔شیخ عبدالرحمن مصری کے لیکچر تیسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ آج کے ایک اعلان کے متعلق ہے جو مصری صاحب کے میں شمولیت کی ممانعت لیکچر کے متعلق کسی نے کیا ہے اور جس میں ایک فقرہ یہ لکھا ہے کہ میری طرف سے جماعت کے دوستوں کو اجازت ہے کہ ان کے لیکچر میں شامل ہوں حالانکہ ان امور میں اجازت اور عدم اجازت کا کوئی سوال نہیں ہوتا بلکہ یہ امور انسان کے قلب سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک شخص اگر میرے پاس آئے اور کہے کہ مجھے آپ کے متعلق بعض جیہات ہیں اور میں نے آپ کو بینات و شواہد سے نہیں مانا تھا بلکہ سنی سنائی باتوں پر اعتبار کر کے مانا تھا اب میں چاہتا ہوں کہ دوسرے فریق کی بھی باتیں سنوں اور دیکھوں کہ وہ کیا کہتا ہے تو شرعاً