انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 5

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی قسم کی باتوں کا اختیار دیتی ہو اور پھر اس کا نام عدالت رکھتی ہو تو پھر دنیا میں کسی اور فسادی کی ضرورت ہی کیا ہے۔اس طرح تو خود گورنمنٹ فساد کا موجب کہلائے گی۔صلى الله رسول کریم ﷺ کی ہتک اور احرار کہا جاتا ہے بلکہ وہ احراری جو رسول کریم ﷺ کی محبت کے بلند بانگ دعاوی کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اس نے اپنے فقرہ کو اگر سے مشروط کر دیا تھا یعنی اس نے یہ نہیں کہا تھا کہ محمد صاحب ایسے ہیں بلکہ اس نے کہا تھا کہ اگر محمد صاحب کو کوئی ایسا کہہ دے تو آپ کا دل دُکھے گا یا نہیں؟ لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ اگر کسی احراری لیڈر سے باتیں کرتے ہوئے کوئی شخص کہے کہ اگر تمہاری ماں کو کوئی بدکار اور کنجری کہے تو تمہارا دل اس سے دُکھے گا یا نہیں تو کیا وہ اسے پسند کریں گے؟ میں سمجھتا ہوں یقیناً وہ اسے پسند نہیں کریں گے۔پس اگر کا لفظ لگانے سے جرم کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔مباحثہ میں دشمن کا جواب دیتے وقت بات کرنے کے اصول اور ہوتے ہیں اور عدالت کی حیثیت اور ہوتی ہے اور عدالت کو اپنے وقار کو قائم رکھنا چاہئے اور ایسے الفاظ سے کلی طور پر احتراز کرنا چاہئے۔ہندوؤں کا ایک روزانہ اخبار " عام لاہور سے نکلا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسے ہمیشہ منگوایا کرتے تھے اور آپ اس کے خریدار تھے۔ایک دفعہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن کریم کے متعلق ایک مضمون لکھا جس میں اگر “ کا لفظ استعمال کر کے اس نے ایک گندی گالی دے دی، میں بھی چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت میں اس اخبار کا خریدار تھا اس لئے میں نے پہلے اسے چٹھی لکھی کہ تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی ہے اس کا اپنے اخبار میں ازالہ کرو۔مگر اس چٹھی کا اُس نے جواب یہ دیا کہ میں نے کوئی ہتک نہیں کی میں نے تو صرف اگر کا لفظ استعمال کر کے ایک شرطی بات کہی تھی۔اس پر میں نے اسے ایک مضمون بھیجا جس میں ویدوں اور وید کے رشیوں کے متعلق میں نے اگر اگر کا لفظ استعمال کر کے کئی سخت الفاظ کہے کہ اگر تمہارے رشی کے متعلق کوئی یہ کہہ دے تو تم اسے کیا سمجھو گے ، اگر ویدوں کے متعلق کوئی یہ کہہ دے تو تم اسے کیسا سمجھو گے اور نیچے میں نے لکھ دیا کہ آپ اس مضمون کو شائع کر دیں۔مضمون تو اُس نے کیا شائع کرنا تھا اُس کا دوصفحہ کا ایک خط آ گیا جو گالیوں سے بھرا ہوا تھا اور جس میں لکھا تھا کہ آپ مرزا صاحب کے لڑکے ہیں آپ کے متعلق میں یہ امید نہیں کرتا تھا کہ ایسے الفاظ ہمارے ویدوں اور رشیوں کے متعلق استعمال کریں گے۔