انوارالعلوم (جلد 15) — Page 196
انوارالعلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ کی زندگی کا مقصد کوششیں کر رہی ہے، قسم قسم کے حیلوں اور تدبیروں سے ہمیں کمزور اور بے کس بنا دینے میں مصروف ہے مگر ہمارا خدا قادر و توانا خدا روز بروز بڑھا تا اور ترقی دیتا جا رہا ہے اور دشمن کے منصوبے بدگوئیاں اور اعتراضات هباء منثور الے ہو کر رہ جاتے ہیں۔پھر اگر دشمن گالیاں دیں، بدزبانیاں کریں ، نا پاک الزام لگائیں ، تو سمجھنا چاہئے کہ ناکام و نامراد دشمن گالیاں ہی دیا کرتا ہے مگر فتح مند فوج مسکراتی ہوئی گزر جاتی ہے۔پس ہماری جماعت کو ان امور کی پروا نہیں کرنی چاہئے بلکہ صبر و استقلال سے کام کرتے جانا چاہئے۔ہمارے سامنے بہت بڑا کام ہے۔اتنا بڑا کام کہ جو ہمیں اور ہماری حالت کو دیکھتے ہوئے بالکل ناممکن نظر آتا ہے۔ہم نے دنیا کی موجودہ سلطنتوں کو ، دنیا کے موجودہ مذاہب اور دنیا کے موجودہ تمدن کو ، دنیا کی اقتصادی انجمنوں کے نظام کو اور ان سب کو بدل کر رسول کریم اللہ کے لائے ہوئے نظام کو قائم کرنا ہے۔ایسی حالت میں دنیا کی حکومتیں اور مذاہب کے ادارے ہماری مخالفت کریں تو طبعی تقاضا کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ حق بجانب ہیں کیونکہ انہیں نظر آ رہا ہے کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے موت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ پروانہ ہمارے ہاتھ میں دیا گیا ہے اور اسے ہم لائے ہیں جن کو دنیا میں حقیر اور ذلیل سمجھا جاتا ہے۔اگر مخالفین ہمیں گالیاں دیں، ہماری باتوں سے چڑیں اور ہمیں دُکھ اور تکلیف پہنچانے میں لگ جائیں تو کوئی بعید بات نہیں مگر ہمارے سامنے ایک ہی بات ہونی چاہئے اور وہ یہ کہ ہم اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کریں جو خدا تعالیٰ نے ہم پر رکھی ہے اور ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو، اپنی طاقتوں اور سامانوں کو کلی طور پر اس لئے صرف کریں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہو۔پہلے مسیح نے بھی یہ کہا تھا مگر افسوس کہ اس کی امت نے خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم کرنے کی بجائے اپنی ہوا و ہوس کی بادشاہت قائم کر لی۔اب ہمارا کام ہے کہ وہ بات جو پھر اس زمانہ میں دُہرائی گئی ہے اس کے متعلق ثابت کر دیں کہ ہم نے اسے پہلے مسیح کے پیروؤں کی نسبت زیادہ دیانتداری کے ساتھ پورا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر کہہ سکیں کہ اے خدا! ہمارے کمزور اور ناتواں کندھوں پر تو نے جو بوجھ رکھا ، اسے ہم نے تیرے ہی فضل سے اُٹھا کر منزل مقصود تک پہنچا دیا۔دنیا نے ہماری مخالفتیں کیں ، ہمیں انتہائی تکلیفیں دیں مگر ہم نے ان کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے کام کو پورا کیا۔ہمارے دل زخمی ہیں اور ہم اس لئے تیرے پاس آئے ہیں کہ تو ان پر اپنی محبت کی مرہم لگا