انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 179

انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم چاہتا کہ آپ میری تعریف کریں مگر یہ کیا ہے کہ میں متواتر اشتہار شائع کر رہا ہوں اور آپ اس کی تردید بھی نہیں کرتے۔میں نے اُسے جواب دیا کہ لوگوں میں تردید کرنے کی رُوح کا پیدا ہو جانا بھی خدا کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے جو آپ کو میتر نہیں۔مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ایک ایسی ذات ہے کہ دنیا خواہ مخالفت کرے خواہ موافقت ، بہر حال وہ آپ کی طرف توجہ کرنے پر مجبور رہی ہے اور مجبور ہے۔جو مخالفت کرنے والے ہیں وہ تو مخالفانہ جذبات سے پر ہی ہیں مگر جن کے دلوں میں محبت ہے وہ اس رنگ کی محبت ہے کہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اُن کے کانوں میں پڑتا ہے اُن کے دلوں میں عجیب قسم کا ہیجان پیدا ہو جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے اندر کوئی تلاطم پیدا ہو گیا ہے اس تلاطم کا اندازہ دوسرے لوگ نہیں لگا سکتے۔صرف وہی لگا سکتے ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور آپ کو پہچانا مگر دیکھنے سے میری مراد صرف جسمانی طور پر دیکھنا نہیں بلکہ میری مُراد ان لوگوں سے ہے جنہوں نے عقل کی آنکھوں سے آپ کو دیکھا اور عرفان کی آنکھ سے آپ کو پہچانا جب کبھی وہ رسول کریم ﷺ کا نام سنیں یا جب کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کے پاس سے گزریں اُس وقت ان کی کیفیت بالکل اور ہو جاتی ہے ނ اور وہ یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا وہ مادی دنیا سے جُدا ہوکر ایک اور عالم میں آگئے ہیں۔دو سال کے قریب کی بات ہے میں کراچی گیا تو وہاں ایک دن کچھ ایسی ہوا چلی جو عرب کی طرف سے آ رہی تھی معاً اس ہوا نے میرے دل میں ایک حرکت پیدا کر دی اور میں نے کہا یہ ہوا اُدھر سے آ رہی ہے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رہا کرتے تھے۔پھر میں انہی خیالات میں محو ہو گیا اور اُس وقت آپ ہی آپ ایک دو شعر میری زبان پر جاری ہو گئے جن کو اُسی وقت میں نے لکھ لیا۔ان اشعار میں سادہ الفاظ میں اپنے جذبات کا میں نے اظہار کیا ہے، شاعرانہ تعلیاں نہیں۔بعد میں چونکہ میں اور کاموں میں مصروف ہو گیا اس لئے میں نے جس قد راشعار کہے تھے اسی قدر ر ہے اور اُن میں اضافہ نہ ہو سکا۔بہر حال جب وہ ہوا آئی تو میں نے کہا۔سمندر ہوائیں آ رہی ہیں مرے دل کو بہت عرب جو گرما رہی ہیں ہے مرے دلبر کا مسکن ہوئے خوش اُس کی لے کر آ رہی ہیں