انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 131

انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ کسی دوسری صورت ہی میں ہو سکتا ہے اور اسی صورت میں جان کو پیش کرنا سچے طور پر امام کی آواز پر لبیک کہنا کہلا سکتا ہے۔۔پس جو دوست میری آواز پر لبیک کہہ رہے ہیں یا لبیک کہنے کا دل میں ارادہ کر رہے ہیں ، انہیں خوب سمجھ لینا چاہئے کہ اس وقت کی جانی قربانیاں گزشتہ زمانے کی جانی قربانیوں سے مختلف ہیں اور اگر میں اس وقت کی مشکلات کو سمجھنے میں غلطی نہیں کرتا تو میں کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کی نفسی کیفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ قربانیاں اگر پہلی قربانیوں سے زیادہ مشکل نہیں تو کم بھی نہیں ہیں۔ہم ایک ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں جس میں جھوٹ اور فریب کو حمد نی اور سیاسی تقدس حاصل ہے۔یعنی تمدن اور سیاست نے اس زمانہ میں جھوٹ کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔پہلے زمانہ میں لوگ جھوٹ تو بولتے تھے مگر کہتے یہی تھے کہ جھوٹ بڑی ھے ہے لیکن آج اسے سیاست اور تمدن کا ایک جز و قرار دیا گیا ہے اور اس زمانہ کے لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جھوٹ وہی گناہ ہے جو پکڑا جائے اور ناکام رہے۔جو جھوٹ پکڑ انہیں جاتا اور نا کام نہیں رہتا وہ گناہ نہیں۔یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں اس قدر راسخ ہو چکی ہے کہ شاید بہت سے لوگ دنیا کی ذہنیت میں اس تبدیلی کے وقوع کو محسوس بھی نہیں کرتے بلکہ یہ جھوٹ اب اس قدر پھیل گیا ہے کہ بہت سے لوگ جھوٹ بولتے ہوئے خود بھی محسوس نہیں کرتے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔تمدنی تعلقات ، سیاسی معاملات، مذہبی مباحثات ، معاشرتی امور سب کے سب جھوٹ پر مبنی کر دیئے گئے ہیں۔کیا یہ عجیب متناقض دعوے نہیں ہیں؟ کہ آجکل سچا دوست اسے سمجھا جاتا ہے جو دوست کی خاطر جھوٹ بولے، ملک کا سچا خیر خواہ وہ ہے جو مخالف حکومت کو سب سے زیادہ جُل دے سکے ، سچ اور جھوٹ کی یہ آمیزش پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔اس پر آشوب زمانہ میں رہتے ہوئے ہم لوگ بحیثیت جماعت کب اس گندگی سے بچ سکتے ہیں ؟ میں ذاتی طور پر اپنے قضاء کے تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ کئی عام حالتوں میں سچ بولنے والے احمدی جب ایک دوست کو مصیبت میں دیکھتے ہیں تو اس کے بچانے کے لئے اپنے بیان میں ایسی تبدیلی کر دیتے ہیں جو ان کے دوست کے فائدہ کیلئے ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ احمدیوں کا سچائی کا معیار دوسروں سے بہت بالا ہے مگر ایک دودھ کے پیالے میں پیشاب کا ایک قطرہ بھی تو اسے گندہ کر دیتا ہے اور جسم انسانی کے ایک حصہ میں جو مرض پیدا ہو بقیہ حصہ بھی تو اس کے اثرات سے محفوظ نہیں کہلا سکتا۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ اس مرض کو دور کرنے کے بغیر ہم کامیاب ہو سکتے ہیں؟ یا اپنے دشمنوں کو زیر کر سکتے