انوارالعلوم (جلد 15) — Page 601
انوار العلوم جلد ۱۵ امته الودود میری بچی شادی کی تاریخ تھی انہوں نے کہا کہ امتحان نہ دو تم نے پاس تو ہونا نہیں گھر کے اور آدمیوں نے بھی کہا اور اس نے امتحان دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔مجھے معلوم ہوا تو میں نے عزیزم میاں شریف احمد صاحب کو کہا کہ یہ ٹھیک نہیں مجھے اس دفعہ ان کے پاس ہونے کی امید ہے۔اگر صدیقہ پاس ہو گئیں تو امتہ الودود کے لئے اکیلا امتحان دینا مشکل ہوگا۔چنانچہ انہوں نے جا کر اسے امتحان کیلئے پھر تیار کر دیا۔امتحان کے بعد کراچی سے واپس آ کر ایک دن صدیقہ بیگم کو رقعہ لکھا کہ چچا ابا سے کہہ دیں کہ اگر آپ دعا کریں تو میں پاس کیوں نہ ہو جاؤں۔اب کے انہوں نے خود امتحان دلایا ہے اگر میں پاس نہ ہوئی تو میں نہیں مانوں گی کہ انہوں نے دعا کی ہے۔میں نے کہلا بھیجا کہ میں دُعا کر رہا ہوں اور اب کے مجھے یقین ہے کہ تم دونوں پاس ہو جاؤ گی اور خدا تعالیٰ نے دونوں کو پاس کر ہی دیا۔پاس ہونے کے بعد دونوں سہیلیوں نے مبارک باد کا تبادلہ کیا۔ہفتہ کی شام کو امتہ الودود صدیقہ کو مبارکباد دینے آئی اور اتوار کی صبح کو صدیقہ اُسے مبارکباد دینے گئیں میں اس دن بہت بیمار تھا وہ میرے پاس بیٹھ گئی۔صدیقہ بیگم صاحبہ تھیں ، بعد میں اس کی چھوٹی بہن اور میری بڑی لڑکی اس کی بھاوج بھی آگئیں میں نے کہا دُودی! تم پاس نہیں ہوئیں میں پاس ہوا ہوں کیونکہ تم تو امتحان کا ارادہ چھوڑ بیٹھی تھیں۔پھر میں نے کہا کہ پڑھائی کے دن تو اب ختم ہوئے اب مرحومہ کی ایک خاص خوبی کام کا وقت آ گیا۔اب میں تم کو اور صدیقہ کو مضامین کے نوٹ لکھوایا کروں گا اور تم انگریزی میں مضمون تیار کر کے ریویو وغیرہ میں دیا کرو۔کہنے لگی کہ میں نے تو کبھی مضمون لکھا نہیں چھوٹی آپا کولکھوایا کریں۔میں نے کہا تم دونوں ہی نے پہلے مضمون نہیں لکھے اب تم کو کام کرنا چاہئے۔کہنے لگی اچھا۔یہ واقعہ میں نے اس لئے بیان کیا ہے کہ مرحومہ میں یہ خوبی تھی کہ با وجود شرمیلی طبیعت کے جب کوئی مفید کام اسے کہا جاتا وہ اس پر کار بند ہونے کیلئے تیار ہو جاتی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں اپنی لڑکیوں سے کہتا تو ان میں سے اکثر شرم کی وجہ سے انکار پر اصرار کرتیں مگر اسے جب میں نے دُہرا کر کہا کہ اب تم کو اپنے علم سے دنیا کو فائدہ پہنچانا چاہئے تو با وجود نا تجربہ کاری اور حیاء کے اس نے میری بات کو منظور کر لیا۔تھوڑی دیر کے بعد ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ نے کہا کہ چھوٹی بچی آخری بار کی ملاقات کو کیلیے رورہی ہوگی۔میں نے جاتا ہےاور ساتھی امتہ الودود ودھ بھی اُٹھی۔میری عادت رہی ہے کہ امتہ القیوم اور امتہ الودود جب پاس سے اٹھا کر تیں تو میں کہا