انوارالعلوم (جلد 15) — Page 554
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا انکار ہے کیونکہ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔خلفاء کے حقوق کے بارہ میں ایک بہت بڑا اعتراض اب میں ایک اعتراض جو بہت مشہور اور جو خلفاء کے حقوق کے بارہ میں ہے اس کا جواب دیتا ہوں۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جیسا کہ آیت استخلاف سے ثابت ہے اور جیسا کہ آیت وَ أُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمُ سے ثابت ہے اور جیسا کہ آیت و شاورهم في الأمْرِ : فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّل على الله سے ثابت ہے خلفا ء پر گو اہم امور میں مشورہ لینے کی پابندی ہے لیکن اُس پر عمل کرنے کی پابندی نہیں۔اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔سب سے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر خود فرماتے ہیں کہ ان زعْتُ فَقَوَمُونِي اگر میں کبھی دکھاؤں تو مجھے سیدھا کر دینا۔معلوم ہوا کہ وہ پبلک کو خلیفہ کو روکنے کا اختیار دیتے ہیں۔غیر مبائعین ہمیشہ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکڑ نے یہ کہ دیا تھا کہ اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کر دینا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے اور پبلک کو حق ہے کہ جب بھی وہ اسے سید ھے راستہ سے منحرف ہوتا دیکھے اُسے پکڑ کر سیدھا کر دے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کا عمل اس بات پر شاہد ہے کہ آپ نے اپنے اس قول کے کبھی بھی وہ معنے نہیں سمجھے جو معترضین لیتے ہیں۔اور نہ مسلمان آپ کے اس قول کا کبھی یہ مفہوم لیتے تھے کہ جب وہ حضرت ابو بکر کی رائے کو اپنی رائے کے خلاف دیکھیں تو سختی سے آپ کو سیدھا کر دیں۔جیشِ اسامہ کو رکوانے کے متعلق جب بڑے بڑے صحابہ حضرت ابو بکڑ کے پاس آئے تو انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ ہماری یہ بات ماننی ہے تو مانو ور نہ ہم تمہیں ابھی سیدھا کر دیں گے بلکہ آپ نے جب ان تمام لوگوں کے مشورہ کو ر ڈ کر دیا اور فرمایا کہ میں جیش اسامہ کو نہیں روک سکتا تو انہوں نے اپنی رائے واپس لے لی۔اسی طرح جب باغیوں سے جنگ کے بارہ میں صحابہ نے کسی قدر نرمی کی درخواست کی تو آپ نے ان کی اس درخواست کو بھی رڈ کر دیا اور فرمایا کہ میں تو ان کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو مُرتدین کے ساتھ کیا جاتا ہے۔اس موقع پر بھی صحابہ نے یہ نہیں کہا کہ اگر آپ ہماری بات نہیں مانتے تو ہم آپ کو سیدھا کر کے چھوڑیں گے بلکہ انہوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور حضرت ابو بکر کے فیصلہ کے سامنے انہوں نے اپنی گردنیں جھکا دیں۔اسی طرح جہاں بھی آپ کا لوگوں سے مقابلہ ہوا