انوارالعلوم (جلد 15) — Page 534
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده خلفائے اربعہ کی پہلے خلفاء سے دوسرا اعتراض اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ بہت اچھا ہم نے مان لیا کہ اس آیت میں ہر رنگ میں مشابہت ضروری نہیں افراد کی خلافت کا ذکر ہے مگر تم خود تسلیم کرتے ہو کہ پہلوں میں خلافت یا نبوت کے ذریعہ سے ہوئی یا ملوک کے ذریعہ۔مگر خلفائے اربعہ کو تم نہ نبی مانتے ہو نہ ملوک۔پھر یہ وعدہ کس طرح پورا ہوا اور وہ اس آیت کے کس طرح مصداق ہوئے اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں پہلوں کو خلافت یا تو نبوت کی شکل میں ملی یا ملوکیت کی صورت میں۔مگر مشابہت کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہر رنگ میں مشابہت ہو بلکہ صرف اصولی رنگ میں مشابہت دیکھی جاتی ہے۔مثلاً کسی لمبے آدمی کا ہم ذکر کریں اور پھر کسی دوسرے سے متعلق کہیں کہ وہ بھی ویسا ہی لمبا ہے تو اب کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو یہ کہے کہ تم نے دونوں کو لمبا قرار دیا ہے تو یہ مشابہت کس طرح درست ہوئی جبکہ ان میں سے ایک چور ہے اور دوسرا نمازی یا ایک عالم ہے اور دوسرا جاہل بلکہ صرف لمبائی میں مشابہت دیکھی جائے گی۔ہر بات اور ہر حالت میں مشابہت نہیں دیکھی جائے گی۔اس کی مثال قرآن کریم سے بھی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً : شَاهِدًا عَلَيْكُمْ لَمَّا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رسول ۶۳ کہ ہم نے تمہاری طرف اپنا ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے اور وہ ویسا ہی رسول ہے جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول کریم اللہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آپس میں مشابہت بیان کی ہے حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک بادشاہ کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے۔اسی طرح موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے مگر رسول کریم یه ساری دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجے گئے۔پھر موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا زمانہ صرف چند سو سال تک ممتد تھا اور آخر وہ ختم ہو گیا مگر رسول کریم ﷺ کی رسالت کا زمانہ قیامت تک کیلئے ہے۔یہ حضرت موسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں اہم فرق ہیں مگر با وجودان اختلافات کے مسلمان یہی کہتے ہیں بلکہ قرآن کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل ہیں حالانکہ نہ تو رسول کریم ﷺے فرعون کی طرح کے کسی ایک بادشاہ کی طرف مبعوث ہوئے ، نہ آپ کسی ایک قوم کی طرف تھے بلکہ سب دنیا کی طرف تھے اور نہ آپ کی رسالت کسی زمانہ میں موسیٰ کی رسالت کی طرح ختم ہونے والی تھی۔پس با وجود ان اہم