انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 450

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده سے بچاتے ہیں اور اس نازک مضمون کو کہ نبی کی وفات کے بعد کیا ہو گا لطیف پیرا یہ میں بیان کرتے ہیں اور قوم بھی اس مضمون کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتی اور نہ ان امور میں زیادہ دخل دیتی ہے کہ نبی کے بعد کیا ہو گا۔چنانچہ یہ کہیں سے ثابت نہیں کہ کسی نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا ہو کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ جب فوت ہو جائیں گے تو کیا ہوگا ؟ آیا آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوگا یا کوئی پارلیمنٹ اور مجلس بنے گی جو مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے امور کا فیصلہ کرے گی کیونکہ ایسے امور پر وہی بحث کر سکتا ہے جو سنگدل ہو اور جو نبی کی محبت اور اس کی عظمت سے بالکل بریگا نہ ہو۔باقی کئی مسائل کے متعلق تو ہمیں احادیث میں نظر آتا ہے کہ صحابہ ان کے بارہ میں آپ سے دریافت کرتے رہتے تھے اور گرید گرید کر وہ آپ سے معلومات حاصل کرتے تھے مگر جانشینی کا مسئلہ ایسا تھا جو صحابہ آپ سے دریافت نہیں کر سکتے تھے اور نہ اس کو دریافت کرنے کا خیال تک ان کے دل میں آ سکتا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ زندہ رہیں گے اور ہم وفات پا جائیں گے۔پس یہ مسئلہ ایک رنگ میں اور ایک حد تک پردہ اخفاء میں رہتا ہے اور اس کے گھلنے کا اصل وقت وہی ہوتا ہے جبکہ نبی فوت ہو جاتا ہے۔یہی حالات تھے جبکہ نبی کریم ﷺ فوت ہوئے آپ کی وفات صحابہ کے لئے ایک زلزلہ عظیمہ تھی۔چنانچہ آپ کی وفات پر پہلی دفعہ انہیں یہ خیال پیدا ہوا کہ نبی بھی ہم سے جدا ہو سکتا ہے اور پہلی دفعہ یہ بات ان کے دماغ پر اپنی حقیقی اہمیت کے ساتھ نازل ہوئی کہ اس کے بعد انہیں کسی نظام کی ضرورت ہے جو نبی کی سنت اور خواہشات کے مطابق ہو اور اس کی جزئیات پر انہوں نے غور کرنا شروع کیا۔بیشک اس نظام کی تفصیلات قرآن کریم میں موجود تھیں مگر چونکہ وہ پہلے چھپی ہوئی تھیں اور ان کو کبھی گرید انہیں گیا تھا اس لئے لوگ ان آیات کو پڑھتے اور ان کے کوئی اور معنے کر لیتے۔وہ خاص معنے نہیں کرتے تھے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ نبی کی وفات کے بعد اس کے متبعین کو کیا کرنا چاہئے۔ہر نبی کی دو زندگیاں ہوتی در حقیقت اس جذبہ محبت کی تہہ میں بھی ایک الہی حکمت کام کر رہی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ نبی کی دوزندگیاں ہوتی ہیں ایک شخصی اور ایک قومی ہیں۔ایک شخصی اور ایک قومی اور اللہ تعالی ان دونوں زندگیوں کو الہام سے شروع کرتا ہے۔نبی کی شخصی زندگی تو الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ تہیں یا چالیس سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے الہامات اس پر نازل ہونے شروع ہو