انوارالعلوم (جلد 15) — Page 376
انوار العلوم جلد ۱۵ مستورات سے خطاب جن لوگوں کو بڑی بڑی باتوں کا خیال ہوتا ہے ان کو چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی کھلا فرصت ہی کب ہو سکتی ہے۔اگر تمہیں دین کا فکر ہو اور تمہیں معلوم ہو کہ اسلام ایک خطرناک مصیبت میں گھرا ہوا ہے تو تم کو دوسری طرف توجہ ہو ہی نہیں سکتی۔تمہارے گھر میں آگ لگی ہوئی ہو تو تم کس طرح چین لے سکتی ہو۔اسی طرح آج جبکہ مسلمانوں کے گھروں میں آگ لگی ہوئی ہے تم کس طرح یہ برداشت کر سکتی ہو کہ گوٹہ کناری میں مشغول رہو۔کیوں نہیں تم وہ وقت خدا تعالیٰ کے دین کیلئے وقف کر دیتیں اور کیوں تم وہی وقت دینی تعلیم کیلئے وقف نہیں کر دیتیں؟ تمہارے دل مردہ ہیں جبھی تو خدا کے دین کی مصیبت تمہیں نہیں رُلاتی اور تم لغو باتوں کی طرف متوجہ رہتی ہو۔والذين إذا ذُكِّرُوا بِايَتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمَّارٌ عُمْيَانًا پھر مومن مرد اور مؤمن عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب ان کے سامنے خدا کی باتیں بیان کی جاتی ہیں تو وہ بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گزر جاتے۔یعنی جب ان کے سامنے خدا کی باتیں بیان کی جائیں تو یہ نہیں کہ عمل نہ کریں بلکہ فورا عمل پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی باتوں کو توجہ سے سنتے ہیں۔میں نے مردوں میں دیکھا ہے کہ مرد گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور آواز تک نہیں نکالتے مگر عورتیں برداشت نہیں کر سکتیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔گویا ان کی توجہ دین کی باتوں کی طرف ہوتی ہی نہیں۔ہمارے ملک میں قصہ مشہور ہے کہ ایک بزرگ مسجد میں نماز پڑھنے گئے۔امام کے خیالات پریشان تھے اسے نماز میں پندرہ روپوں کا خیال آ گیا۔ادھر مقتدیوں کا خیال تھا کہ امام صاحب سورۃ فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔مگر اسے خیال تھا کہ پندرہ روپوں سے دلی سے فلاں فلاں چیزیں خریدوں گا۔اس طرح ہوتے ہوتے پانچ ہزار ہو گئے۔رکوع میں خیال آیا کہ جب پانچ ہزار ہو جائیں گے تو بخارا جاؤں گا۔وہاں سے گھوڑے خریدوں گا اور اسی طرح ہیں ہزار ہو جائیں گے پھر واپس دتی آ کر بیس ہزار کے چالیس ہزار بنا لوں گا۔اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کو کشف میں یہ تمام باتیں بتا دیں اور وہ نماز توڑ کر الگ ہو گئے۔سلام پھیر کر امام نے کہا کہ تم کافر ہو ، مسلمان ہوتے تو ہمارے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھتے۔وہ کہنے لگے میں کمزور ہوں زیادہ چل پھر نہیں سکتا۔آپ تو دتی گئے پھر بخارا گئے وہاں سے گھوڑے لیکر پھر دتی آئے مجھ سے یہ سفر نہ ہو سکا اور میں آپ سے علیحدہ ہو گیا۔وہ شرمندہ ہو کر معافی مانگنے لگا اور کہنے لگا آپ تو بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذکر الہی کے