انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 310

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) کہا ہم مسافر ہیں ، صرف رات کاٹنا چاہتے ہیں اگر تکلیف نہ ہو تو تھوڑی سی جگہ کا ہمارے لئے انتظام کر دیا جائے ، ہم صبح چلے جائیں گے۔اُس نے کہا جگہ تو کوئی نہیں ، ایک ہی کمرہ ہے جس میں ہم میاں بیوی رہتے ہیں مگر چونکہ تمہیں بھی ضرورت ہے اس لئے ہم اس کمرہ میں ایک پردہ لٹکا لیتے ہیں ایک طرف تم سوتے رہنا ، دوسری طرف ہم رات گزار لیں گے۔چنانچہ اس نے پردہ لٹکا دیا اور وہ دونوں اندر آگئے۔اتفاق یہ ہے اُن کے پاس کچھ روپے بھی تھے ، اب جب وہ سونے کے لئے لیٹے تو انہیں خیال آیا کہ کہیں یہ گھر والے ہماری نقدی نہ پچرالیں۔اس لئے انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ذرا ہوشیار رہنا اور جاگتے رہنا، ایسا نہ ہو کہ ہم ٹوٹے جائیں۔ادھر میاں جو پیشہ میں قصاب تھا اس خیال سے کہ ہمارے مہمانوں کی نیند خراب نہ ہو بیوی سے آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگا۔ان پادریوں کے پاس چونکہ روپیہ تھا انہوں نے سوچا کہ کہیں یہ لوگ ہمیں کوٹنے کی تجویز تو نہیں کر رہے اور کان لگا کر باتیں سننے لگے۔اُن دونوں میاں بیوی نے دوسو ر پال رکھے تھے جو سور خانے میں تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے ایک کو دوسرے دن ذبح کر دیں۔اتفاق کی بات ہے کہ ایک سور موٹا تھا اور ایک دُبلا تھا۔اسی طرح ایک پادری بھی موٹا تھا اور ایک دبلا۔جب پادریوں نے کان لگا کر سننا شروع کیا تو اُس وقت میاں بیوی آپس میں یہ گفتگو کر رہے تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک کو ذبح کر دیا جائے ، خاوند کہنے لگا کہ میری بھی یہی صلاح ہے کہ ایک کو ذبح کر دیا جائے۔پادریوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے سمجھا کہ بس اب ہماری خیر نہیں یہ ضرور چھرا لے کر ہم پر حملہ کر دیں گے اور ہمیں مار کر نقدی اپنے قبضہ میں کر لیں گے مگر انہوں نے کہا ابھی یہ فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں ذرا اور باتیں بھی سُن لیں۔پھر انہوں نے کان لگائے تو انہوں نے سُنا کہ بیوی کہہ رہی ہے پہلے کس کو ذبح کریں؟ میاں نے کہا پہلے موٹے کو ذبح کرو پتلا جو ہے اُسے چند دن کھلا پلا کر پھر ذبح کر دینگے۔یہ بات انہوں نے جو نہی سنی وہ سخت گھبرائے اور انہیں یقین ہو گیا کہ اب ہمارے قتل کی تجویز پختہ ہو چکی ہے چنانچہ انہوں نے چاہا کہ کسی طرح اس مکان سے بھاگ نکلیں۔دروازے چونکہ بند تھے اس لئے دروازوں سے نکلنے کا تو کوئی راستہ نہ تھا۔وہ بالا خانہ پر لیٹے ہوئے تھے انہوں نے نظر جو ماری تو دیکھا کہ ایک کھڑ کی کھلی ہے بس انہوں نے جلدی سے اُٹھ کر کھڑکی میں سے چھلانگ لگا دی جو موٹا پادری تھا وہ پہلے گرا اور جود بلا پادری تھا وہ اس موٹے پادری کے اوپر آپڑا۔دبلے کو تو کوئی چوٹ نہ لگی، مگر موٹا جو پہلے گرا تھا اُس کے پاؤں میں سخت موچ آ گئی اور وہ چلنے کے