انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 309

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) نے سمجھا کہ اب اس عملی زک کے نتیجہ میں لوگوں کے دلوں میں ایسا بغض بیٹھ گیا ہے کہ میرا یہاں رہنا ٹھیک نہیں چنانچہ وہ اس علاقہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے علاقہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے۔پھر میں نے کہا کہ اچھا جو حصہ حساب و تاریخ کا رہ گیا ہے اُس کے متعلق مجھے اس رصد گاہ سے کیا اطلاع ملتی ہے جب میرے دل میں یہ سوال پیدا ہو اتو مجھے اس کے متعلق یہ اطلاعات ملیں۔سورج، چاند اور ستارے سب انسان اوّل: سورج اور چاند اور ستارے سب اپنی ذات میں مقصود نہیں بلکہ یہ سب ایک اعلیٰ ہستی کی خدمت کیلئے پیدا کئے گئے ہیں کے کام اور فائدہ کیلئے بنائے گئے ہیں اور وہ اعلیٰ ہستی انسان ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ محل میں فرماتا وسخر لليل والنهار والشمس والقمر، والنُّجُومُ مُسَخَّرت b بأمره ، إن في ذلك لايت لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ " کہ اے بیوقوف انسان! تو خواہ مخواہ سورج، چاند اور ستاروں کی طرف دوڑ رہا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ یہ رات ، دن ، سورج، چاند اور ستارے سب تیری خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں مگر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ جسے ہم نے خادم قرار دیا تھا اُس کو تم اپنا مخدوم قرار دے رہے ہو اور جسے ہم نے مخدوم بنا کر بھیجا تھا وہ خادم بن رہا ہے تم ان سے ڈرتے اور گھبراتے کیوں ہو۔کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کوئی آقا اپنے نوکر سے ڈر رہا ہو اور اُس کے آگے ہاتھ جوڑتا پھرتا ہو، یا کوئی افسر اپنے چپڑاسی کی منتیں کرتا رہتا ہو؟ اور اگر تم کسی کو ایسا کرتے دیکھو تو کیا تم نہیں کہو گے کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔پھر تمہیں کیوں اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ وسخر لكم ہم نے تو ان تمام چیزوں کو تمہارا غلام بنا کر دنیا میں پیدا کیا ہے اور ان سب کا فرض ہے کہ وہ تمہاری خدمت کریں۔بیشک یہ بڑی چیزیں ہیں مگر جس ہستی نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے بھی بڑی ہے۔اُس نے تو ان چیزوں کو تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیا ہے مگر تمہاری عجیب حالت ہے کہ تم الٹا انہیں کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ رہے ہو۔قرآن کریم نے جو شرک کی اس بیہودگی کی طرف اس زور سے توجہ دلائی ہے۔مجھے اس کے متعلق ایک قصہ یاد آ گیا وہ بھی بیان کرتا ہوں کہ اس سے مشرکوں کی بے وقوفی پر خوب روشنی پڑتی ہے۔وہ قصہ یہ ہے کہ فرانس میں دو پادری ایک دفعہ سفر کر رہے تھے کہ سفر کرتے کرتے رات آ گئی اور انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ کہیں رات آرام سے بسر کریں اور صبح پھر اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہو جائیں۔انہوں نے ایک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک عورت نکلی ، انہوں نے۔