انوارالعلوم (جلد 15) — Page 300
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) گھبرانے اور فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے ، تمام جنتر منتر اُس کے قبضہ میں ہے اگر وہ دیکھے گا کہ سورج کے کسی اثر کی وجہ سے تمہیں نقصان پہنچنے والا ہے تو وہ اس کے بداثر سے تمہیں بچالے گا، اگر دیکھے گا کہ چاند کی کسی گردش سے تم پر تباہی آنیوالی ہے تو وہ خود اس تباہی سے تمہیں محفوظ رکھے گا، تم ماش اور جو پر پڑھ پڑھ کر کیا پھونکتے ہو؟ تم اللہ تعالیٰ سے دوستی لگا ؤ جب تمہاری اس سے دوستی ہو جائے گی تو مجال ہے کہ اُس کے گئے تمہیں کچھ کہہ سکیں۔پس میں نے جب قرآنی رصد گاہ میں سے اس علاج کو دیکھا تو میرے دل نے کہا واقعہ میں وہ بالکل فضول طریق ہیں جو لوگوں نے ایجاد کر رکھے ہیں کیوں نہ اس رصد گاہ کا جو اصل مالک ہے اور جو زندہ اور طاقتور خدا ہے اس سے دوستی لگائی جائے۔اگر مریخ کی کسی چال کا ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہوگا تو خدا خود اس کا علاج کرے گا۔ہم میں ذاتی طور پر یہ کہاں طاقت ہے کہ ہم تمام ستاروں کے بداثرات سے بیچ سکیں۔اگر بالفرض ایک ستارے کے بداثر سے ہم نکل بھی گئے تو ہمیں کیا پتہ کہ کوئی اور ستارہ ہمیں اپنی گردش میں لے آئے۔پس یہ بالکل غلط طریق ہے کہ انسان ایک ایک ستارہ کے بداثر سے بچنے کی کوشش کرے اصل طریق وہی ہے جو قرآن کریم نے بتایا کہ انسان ان ستاروں کے مالک اور خالق سے دوستی لگالے پھر کسی ستارے کی مجال نہیں کہ وہ انسان پر بداثر ڈال سکے۔ایک بزرگ کا قصہ قصہ مشہور ہے کہ کوئی بزرگ تھے ان کے پاس ایک دفعہ ایک طالبعلم آیا جو دینی علوم سیکھتا رہا، کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس جانے لگا تو وہ بزرگ اس سے کہنے لگے میاں! ایک بات بتاتے جاؤ۔وہ کہنے لگا دریافت کیجئے میں بتانے کے لئے تیار ہوں۔وہ کہنے لگے اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے ہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور ! شیطان کہاں نہیں ہوتا شیطان تو ہر جگہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا اچھا جب تم نے خدا تعالیٰ سے دوستی لگانی چاہی اور شیطان نے تمہیں ورغلاد یا تو تم کیا کرو گے؟ اُس نے کہا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔کہنے لگے فرض کرو تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا ،لیکن پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے جدو جہد کی اور پھر تمہیں شیطان نے روک لیا تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا میں پھر مقابلہ کرونگا۔وہ کہنے لگے اچھا مان لیا تم نے دوسری دفعہ بھی اُسے بھگا دیا لیکن اگر تیسری دفعہ وہ پھر تم پر حملہ آور ہو گیا اور اس نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھنے نہ دیا تو کیا کرو گے؟ وہ کچھ حیران سا ہو گیا مگر کہنے لگا میرے پاس سوائے اس کے کیا علاج ہے کہ میں پھر اُس کا مقابلہ کروں۔وہ کہنے لگے اگر ساری عمر تم شیطان سے مقابلہ ہی