انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 255

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) تھیلی ہے وہ جس شخص کو زمین پر بھیجنا چاہتا ہے اُس کی روح چھوڑ دیتا ہے گویا جس طرح بٹیرے پکڑنے والے اپنی تھیلیوں میں سے ایک ایک بٹیرہ نکالتے جاتے ہیں، اسی طرح خدا پہلے ایک رُوح چھوڑتا ہے پھر دوسری پھر تیسری گویا اس زمانہ کے علماء نے یہ ٹھیکہ لے لیا ہے کہ قرآن کریم میں جو بات لکھی ہوگی اس کے وہ ضرور خلاف کریں گے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تسلیم کیا ہے کہ انسانی پیدائش آہستگی سے ہوئی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں حکمت تھی۔اگر پیدائش اس رنگ میں نہ ہوتی تو بہت سے نقائص رہ جاتے مگر آجکل کے علماء اس بارہ میں جو کچھ عقیدہ رکھتے ہیں اس کا پتہ اس سے لگ جاتا ہے کہ مولوی سید سرورشاہ صاحب سنایا کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے ایک اُستاد نے لڑکوں کو بتایا کہ دنیا میں جو ہمیں بہت بڑا تفاوت نظر آتا ہے، کوئی خوبصورت ہے کوئی بدصورت اور کوئی درمیانی صورت رکھتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کرنا چاہا تو اُس نے کہا کہ آؤ میں انسان بنانے کا کسی کو ٹھیکہ دے دوں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو ٹھیکہ دے دیا اور اُن سے کہا کہ میں شام تک تم سے اتنے آدمی لے لوں گا۔خیر پہلے تو وہ شوق اور محنت سے کام کرتے رہے اور انہوں نے بڑی محنت سے مٹی گوندھی پھر نہایت احتیاط سے لوگوں کے ناک، کان ، آنکھ ، منہ اور دوسرے اعضاء بنائے اور اس طرح دو پہر تک بڑی سرگرمی سے مشغول رہے، اِس دوران میں جو آدمی ان کے ذریعہ تیار ہو گئے وہ نہایت حسین اور خوبصورت بنے مگر جب دو پہر ہوگئی اور انہوں نے دیکھا کہ ابھی کام بہت رہتا ہے اور وقت تھوڑا رہ گیا ہے تو انہوں نے جلدی جلدی کام شروع کر دیا اور کچھ زیادہ احتیاط اور توجہ سے کام نہ لیا اور اس طرح عصر تک کام کرتے رہے اِس دوران میں جولوگ تیار ہوئے وہ درمیانی شکلوں کے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ عصر ہوگئی ہے اور اب سورج غروب ہی ہونے والا ہے اور ٹھیکہ کے مطابق تعداد تیار نہیں ہوئی تو انہوں نے یوں کرنا شروع کر دیا کہ مٹی کا گولہ اُٹھا ئیں اور اُسے دو تھپکیاں دے کر بُت بنا کر مُنہ کی جگہ ایک انگلی ماردیں اور آنکھوں کی جگہ دو انگلیاں اور اس طرح جلدی جلدی آدمی بناتے جائیں یہ آدمی بدصورت بنے جو بدصورت قوموں کے آباء ہو گئے۔اب یہ ہے تو دین سے تمسخر اور استہزاء مگر حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں میں پیدائش انسانی کے متعلق ایسے ہی خیالات رائج ہو چکے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی طرح بنایا ہے کہ مٹی کو گوندھا اور انسانی بت بنا کر اس کے سوراخ بنادیئے اور پھر ایک