انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 200

انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو مستورات سے خطاب تقریر فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۳۸ء بر موقع جلسه سالانه) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا : - ہمارے ملک میں ایک کہانی مشہور ہے بلکہ اس کے متعلق ایک ضرب المثل بنی ہوئی ہے کہ کوا ہنس کی چال چلا اور اپنی بھی بھول گیا۔کہانی یوں بیان کرتے ہیں کہ کسی کوے نے ہنسوں کی چال جو دیکھی تو وہ اسے پسند آئی۔اس نے سمجھا کہ میری چال اچھی نہیں۔آخر اس نے کچھ ہنسوں کے پر اُٹھائے اور اپنے پروں میں اُڑس لئے اور لگا اُن کی سی چال چلنے مگر وہ اُن کی چال کب چل سکتا تھا۔ہنسوں نے اُسے اجنبی پرندہ سمجھ کر مارنا شروع کیا یہ وہاں سے نکل کر اپنے کتوں میں آشامل ہوا مگر چونکہ یہ کچھ مدت ہنسوں کی چال چل کر اپنی بھی بھول گیا تھا اس لئے کووں نے بھی اسے چونچیں مار مار کر اپنے میں سے باہر کیا۔اب یہ اکیلا رہ گیا نہ ادھر کا رہا نہ اُدھر کا رہا۔نہ ہنسوں نے اسے ساتھ ملایا نہ کوّوں نے اسے شامل کیا۔اس مثال یا اس کہانی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو جس کام کیلئے پیدا کیا وہی اس کام کو بخوبی سمجھ سکتی اور احسن طور پر سر انجام دے سکتی ہے۔اردو میں ایک اور ضرب المثل ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔“ جب ایک کا کام دوسرا کرنے لگے گا تو لازماً خرابی پیدا ہوگی اور وہ ایک عجوبہ بن جائے گی اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ایک مرد دوسری عورت۔ان میں اللہ تعالیٰ نے بعض اشتراک رکھے ہیں اور بعض اختلاف بھی رکھے ہیں۔مثلاً کھانے پینے میں مرد اور عورت ایک ہی قسم کے ہیں یہ بھی نہیں ہوا کہ مرد کھاتے ہیں اور عورتیں نہ کھاتی ہوں گو غذاؤں