انوارالعلوم (جلد 15) — Page 171
انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب پس لوگوں کے اندر اپنے متعلق جذبہ محبت پیدا کرنے کیلئے تم اپنے اندر کمال پیدا کرو۔میرے اندر کوئی کمال ہے تو اس سے حقیقی طور پر تم فائدہ نہیں اُٹھا سکتے وہ چیز تو طفیلی ہے۔ایک شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت کرتا ہے ہماری بھی عزت کرے گا یا میری خلافت کی وجہ سے جن لوگوں میں جذبہ محبت پایا جاتا ہے وہ تم سے میری اولاد ہونے کی وجہ سے محبت کریں گے مگر یہ محبت اور یہ عزت طفیلی چیز ہے۔یہ محبت اور عزت تو ایسی ہی ہے جیسے کسی بڑے افسر کے چپڑاسی کی عزت کی جاتی ہے۔اس کا علم ان لوگوں کو ہوتا ہے جو افسروں سے ملتے ہیں۔بڑے بڑے نواب افسروں کو ملنے جاتے ہیں تو چپڑ اسی بہت بُری طرح ان سے پیش آتے ہیں حالانکہ ان کی کوئی پوزیشن نہیں ہوتی اور خصوصاً چھوٹے افسروں کو تو وہ بہت ذلیل کرتے ہیں۔جب کسی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ماتحت افسر ملنے آتے ہیں تو چپڑاسی انہیں تنگ کرتے ہیں اور بعض دفعہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم کیا کریں صاحب کام کر رہے ہیں یا سور ہے ہیں اُس وقت ایک چپڑاسی بھی حکومت جتارہا ہوتا ہے مگر تم جانتے ہو کہ وہ کس قدر حقیر بات کہہ رہا ہوتا ہے اور دوسرے لوگ اُس کو کس قدر ذلیل سمجھ رہے ہوتے ہیں۔پس ایسی عزت بھی جو دماغ پر بُرا اثر ڈالے کوئی عزت نہیں بلکہ لوگ ایسے شخص کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔پس جیسے کسی بڑے افسر کے چپڑاسی کے خلاف جذبہ تنفر پیدا ہوتا ہے اسی طرح اگر تم نے بھی اپنے اندر کوئی کمال داخل نہ کیا تو تم بھی اسی جذبہ کے قابل ہو گے۔ہم دنیوی لحاظ سے ایک معمولی زمیندار ہیں ہماری اس سے زیادہ حیثیت نہیں۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے جماعت کی دولت لوٹ لی ہے وہ جھوٹے اور فریبی ہیں جس چیز نے ہمیں روپیہ دیا ہے وہ احمدیت ہے۔احمدیت سے قبل ہماری زمینوں کی موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے کوئی قیمت نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے تو آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق یہاں کی آبادی بڑھی اور زمینوں کی قیمتیں زیادہ ہوگئیں۔باہر جن زمینوں کی سو دو سو روپیہ قیمت ہے یہاں اُس کی قیمت ہزار دو ہزار ہے اور اگر یہ زمینیں مہنگی نہ ہو تیں تو تم تینوں اس قدر تعلیم بھی حاصل نہ کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے ماتحت قادیان کی آبادی بڑھی، زمینوں کی قیمتیں زیادہ ہوئیں تو تم اس قابل ہو گئے کہ اس قدر اعلیٰ تعلیم حاصل کرو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پنجاب میں ہمارا خاندان بہت معزز تھا اس کا اقرار غیر احمدیوں اور غیر مسلموں کو بھی ہے۔پرنس آف ویلز جب ہندوستان آئے تو میں بھی انہیں ملنے