انوارالعلوم (جلد 15) — Page 168
انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب نہیں کہہ سکتا کہ اُس کے دل میں خوشی کے جذبات پیدا نہ ہوں لیکن جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے اُس نے ہم میں ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ صرف جسمانی قرب ہمارے دلوں میں حقیقی راحت پیدا نہیں کر سکتا۔بے شک ایسے مواقع پر انسان کو خوشی ہوتی ہے اور بہت سا اطمینان بھی انسان حاصل کر لیتا ہے لیکن پھر بھی درمیان میں ایک پردہ حائل ہوتا ہے جو بعض دفعہ ہمارے قُرب کو بعد میں تبدیل کر دیتا ہے پس حقیقی خوشی ہمیں اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس پردہ کو بھی دور نہ کیا جائے۔اس ایڈریس میں مظفر احمد سَلَّمَهُ رَبُّۂ کی آمد اور اس کی کامیابی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔میں اس موقع پر انہیں ان کے ہی ایک قول کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو انہوں نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا پہلے وہ زبانی تھا اور اب اس پر عمل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔مظفر احمد جب آئی سی۔ایس میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ نوکری انہیں پسند نہیں تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہیں مگر انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ اسلامی تعلیم یہ نہیں کہ ہم دنیا کو چھوڑ کر بزدلی سے ایک طرف ہو جائیں ہم دنیا میں جس غرض کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اس کے لئے بحیثیت جماعت ہم پر فرض ہے کہ ہم دنیوی طور پر بھی سلسلہ کے اصولوں کی خوبیاں ثابت کریں اور اگر ہم دنیا کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں تو پھر ہم اپنے اصولوں کی خوبیاں ثابت نہیں کر سکتے۔پس ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اس رنگ میں بھی دنیا میں اپنے اصول کی خوبیاں ثابت کریں۔ملازمت کرنا کوئی معیوب امر نہیں بلکہ اگر کوئی شخص بلا وجہ ملا زمت کو ترک کر دیتا ہے تو ایسے آدمی کی قربانی کوئی بڑی قربانی نہیں کہلا سکتی۔البتہ وہ شخص جسے سچ بولنے کی عادت ہوا اور اُس کا طریق کار انصاف پر مبنی ہو ، اگر اُس سے ظلم کروانے اور جھوٹ بلوانے کی کوشش کی جائے اور ایسا شخص نوکری چھوڑ دے تو اس کی قربانی حقیقی قربانی ہوگی کیونکہ اُس نے تقویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے ملازمت کو ترک کیا ہے۔ایک اور بات یہ بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ جب کسی کو کوئی اعلیٰ ملازمت ملتی ہے تو اُس میں ایک قسم کا کبر پیدا ہو جاتا ہے مگر ایک احمدی کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہماری جماعت میں کمزور لوگ بھی ہیں اور غریب بھی ہیں۔ترقی ملنے سے بعض لوگوں میں کبر اور غرور پیدا ہو جاتا ہے اور وہ غریبوں سے ملنا عار سمجھنے لگ جاتے ہیں ایسے لوگ در حقیقت انسانیت سے بھی جاتے رہتے ہیں۔پس پہلی ذمہ داری جو اِن پر عائد ہوتی ہے وہ احمدیت کی ہے۔احمدیت کا کام ساری دنیا