انوارالعلوم (جلد 15) — Page 66
انقلاب حقیقی انوار العلوم جلد ۱۵ بھی قرآن سے ہی ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُل هذِهِ سَبِيلَ ادْعُوا إلى اللون على بصيرة أنا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي، وَ سُبحن الله و ما أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ٥٦ والا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی آ گیا اور اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ تُو دُنیا سے کہہ دے کہ توحید کامل کے علمبردار ہونے کا مقام مجھے بھی عطا ہوا ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے۔قل إنّني هَديني رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ، دِينَا قِيمًا مَلَةَ ابْرُهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قُل إنّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لله رب العلمينَ لا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وانا اولُ المُسْلِمِينَ ٥٧ لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے خدا نے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دی ہے اس راستہ کی طرف جو ابراہیمی طریق ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔اس جگہ مشرک کے معنی عام مشرک کے نہیں ہیں بلکہ ایسے شخص کے ہیں جو اپنے دل و دماغ کی طاقتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ لگائے اور اسے پورا تو کل حاصل نہ ہو۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کے طریق پر چلایا ہے تو سوال ہو سکتا تھا کہ ابراہیم نے تو اپنی تمام طاقتیں خدا تعالیٰ کے سپرد کر دی تھیں اور جب انہیں کہا گیا تھا کہ اسلیم تو انہوں نے کہہ دیا تھا أسلمتُ الرّب العAT ANNOTATO کیا آپ نے بھی یہی کچھ کہا ہے؟ تو فرماتا ہے کہ کہہ دے کہ وہی کام میں نے بھی کیا ہے اور میری نماز اور میراذ بیجہ اور میری زندگی اور میری موت سب رب العلمین کے لئے ہو گئی ہیں اور میں اس طرح خدا تعالیٰ کا بن گیا ہوں کہ اب میرے ذہن کے کسی گوشہ میں خدا تعالیٰ کے سوا کسی کا خیال باقی نہیں رہا۔غرض یہاں لا شريك له سے مُراد کامل توحید کا اقرار ہے اور آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تو کہہ دے کہ اس اعلی تعلیم پر چلنے کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے حکم دیا گیا ہے۔یعنی میں ابراہیمی تعلیم پر نقل کے طور پر نہیں چل رہا بلکہ مجھے وہ تعلیم براہِ راست خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے۔اور پھر فرمایا کہ تم لوگ اس محبہ میں ہو کہ میں ابراہیمی مقام پر ہوں یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں ابراہیم کے مقام سے بھی آگے نکل گیا ہوں اور میں کہتا ہوں آنا اولُ المُسلمین کہ پہلا مسلم میں ہوں یعنی ابراہیم بھی اسلمت لرب العلمین کہنے والا تھا اور میں بھی یہی کہتا ہوں اور زمانہ کے لحاظ سے ابراہیم کو تقدم حاصل ہے اور بظاہر اولُ المُسلمین وہ بنتا ہے لیکن تقدم زمانی اصل کے نہیں ، تقدم مقام اصل ھے ہے اور اس کے لحاظ سے میں ہی اول المسلمین ہوں اور ابراہیم میرے بعد ہے۔