انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 65

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کو لعنت نہ قرار دیا۔بلکہ صرف اس عمل پر شریعت کو لعنت قرار دیا جس کے ساتھ دل کا تقدس اور اخلاص اور تقوی شامل نہ ہو۔مگر مسیحیوں نے مسیح کے کلام سے دھوکا کھایا اور جب ان کی روحانیت کمزور ہوئی انہوں نے اپنی کمزوری کے اثر کے ماتحت غلط تاویلوں کا راستہ اختیار کر لیا اور شریعت کو لعنت قرار دینے لگے اور یہ نہ خیال کیا کہ اگر وہ لعنت ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام اور اُن کے حواری روزے کیوں رکھتے تھے ، عبادتیں کیوں کرتے تھے، جھوٹ سے کیوں بچتے تھے اور اسی طرح نیکی کے اور کام کیوں کرتے تھے۔ان امور سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ ظاہری عبادت کو لعنت نہیں سمجھتے تھے بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ظاہر کے ساتھ باطن کی اصلاح نہ کی جائے تو وہ ظاہر لعنت بن جاتا ہے۔غرض آید نه بروح القدس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر پاکیزگی قلب کے خاص راز ظاہر کئے گئے تھے اور قدوسیت اور باطنی تعلیم پر زور دینے کیلئے ان کو خاص طور پر حکم دیا گیا تھا اور ظاہری احکام کی باطنی حکمتیں انہیں سمجھائی گئی تھیں اور ان کے دور میں تصوف نے زمانہ بلوغت میں قدم رکھنا شروع کیا تھا۔دور محمدی کا پیغام ، مذہب کی عمارت کی تکمیل حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں مذہب کی کی عمارت تکمیل کے قریب پہنچ گئی تھی۔مگر ابھی پوری تحمیل نہ ہوئی تھی۔سو اس کام کیلئے سید ولد آدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور یہ دور محمدی ہے۔جامع کمالات انبیاء محمد مصطفی عمل آپ آدم بھی تھے کہ اللہ تعالی نے الله آپ کو اپنا خلیفہ تجویز کیا اور صحیح تمدن کے قیام کا کام آپ کے سپر د کیا۔آپ نوع بھی تھے کہ آپ کو فرمایا۔اِنّا اوْحَيْنَا تِيكَ كَمَا أَوْحَيْنَا الى نوچ پس نوح والا پیغا م بھی آپ کی وحی میں شامل تھا۔آپ ابراہیم بھی تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيكَ آن اتبع مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا، وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكين ۵۵ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ تو ابراہیم بھی بن جا۔کوئی کہے بن جا کہنا تو ایک حکم ہے اس کا کیا ثبوت ہے کہ آپ واقع میں ابراہیم بن بھی گئے تھے ؟ سو ہم کہتے ہیں اس کا ثبوت