انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 51

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی نہیں بن سکتا جو کپڑے پہن کر نہاتا ہو کیونکہ ان کے نزدیک ابھی وہ شخص پورا مہذب نہیں ہوا۔میں نے اس کے متعلق ایک کتاب بھی پڑھی ہے جس میں ایک ڈاکٹر لکھتا ہے کہ میری بیٹی ننگے مذہب میں شامل ہو گئی۔مجھے یہ بات سخت ناگوار گزری اور میں نے اس پر سختی کرنی شروع کر دی۔آخر ایک دن بیٹی نے مجھے کہا۔ابا ! ذرا چل کر دیکھو تو کہ جن کو آپ بد تہذیب کہتے ہیں وہ کتنے مہذب اور شائستہ لوگ ہیں۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ ایک دن میری بیٹی مجھے زبر دستی اس سوسائٹی میں لے گئی۔جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ سب لوگ ننگے پھر رہے ہیں۔میں یہ دیکھ کر پہلے تو شرم کے مارے زمین میں گڑ گیا مگر پھر میں نے دیکھا کہ ان کے چہروں پر اتنی معصومیت برس رہی ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔چنانچہ یہ دیکھتے ہی میرے خیالات بھی بدل گئے اور میں بھی کپڑے اُتار کر اُن میں شامل ہو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ سے پہلی دفعہ نسلِ انسانی میں تمدن قائم کیا اور فرمایا کہ تم میں سے بعض خواہ ننگے پھرنے کے قائل ہوں مگر ہم انہیں نگا نہیں پھرنے دینگے گویا انسانی حریت پر آدم نے بعض قیود لگا دیں اور اسے ایک قانون کا پابند کر دیا۔تمدنی حکومت کے فوائد آج آپ لوگ ان باتوں کو معمولی سمجھتے اور ان پر پہنتے ہیں مگر جب پہلے پہل آدم نے یہ باتیں لوگوں کے سامنے پیش کی ہوں گی تو میں سمجھتا ہوں اُس وقت خونریزیاں ہوگئی ہونگی اور قوموں کی قومیں آدم کے خلاف کھڑی ہوگئی ہونگی۔جب آدم نے انہیں کہا ہوگا کہ کپڑے پہنو تو کئی قبائل کھڑے ہو گئے ہونگے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہو گا کہ حریت ضمیر کی حفاظت میں کھڑے ہو جاؤ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آدم اور اس کے ساتھیوں کو وہ دلائل بھی سکھائے کہ کیوں نظام کی پابندی تمہارے لئے مفید ہو گی۔فرماتا ہے اے آدم! جب لوگ اعتراض کریں اور کہیں کہ اس تمدنی حکومت کا کیا فائدہ ہے؟ تو تم انہیں کہنا کہ اگر تم اس جنت نظام میں رہو گے تو بھو کے نہ رہو گے ، ننگے نہ رہو گے، پیاسے نہ رہو گے اور دھوپ کی تکلیف نہ اُٹھاؤ گے اور یہی مذہبی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملکی بہبودی کے سامان کرے۔لوگوں نے غلطی سے قرآن کریم کی اس آیت کے یہ معنی لئے ہیں کہ آدم ایسے مقام پر رکھا گیا تھا جہاں نہ بھوک لگتی تھی نہ پیاس حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اس میں دراصل بتایا یہ گیا ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کے لئے کام مہیا کرے۔اگر کوئی کام نہ کر سکتا ہو تو