انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page viii

انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب یہ انوارالعلوم کی پندرہویں جلد ہے جو سیدنا حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی کی ۲۸ دسمبر ۱۹۳۷ء سے جولائی ۱۹۴۰ ء تک کی ۲۴ مختلف تقاریر و تحریرات پر مشتمل ہے ۔ (1) انقلاب حقیقی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی نے ۲۸ دسمبر ۱۹۳۷ ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں یہ معرکۃ الآراء خطاب فرمایا جو بعد میں انقلاب حقیقی کے نام سے شائع ہوا۔ حضور نے اصل موضوع کی طرف آنے سے پیشتر تمہیداً قومی زندگی کے لئے دو بنیادی اصولوں کا ذکر فرمایا جن کے بغیر قومی زندگی خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی قائم نہیں رہ سکتی ۔ ان میں سے پہلا اصول یہ ہے کہ :۔ کوئی تحریک دنیا میں حقیقی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اُس میں کوئی نیا پیغام نہ ہو ۔ دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ:۔ اصلاح کے ہمیشہ دو ذرائع ہوتے ہیں یا صلح یا جنگ یعنی یا تو صلح کے ساتھ وہ پیغام پھیلتا ہے یا جنگ اور لڑائی کے ساتھ پھیلتا ہے۔ اس کے بعد حضور نے انقلاب حقیقی کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیاوی لحاظ سے انقلاب حقیقی کے معنی ہیں رائج الوقت نظام کو مکمل طور پر ختم کر کے اُس کی جگہ کوئی نیا نظام قائم کرنا۔ دینی اصطلاح میں انقلاب حقیقی کو مختلف الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ جیسے الْقَيَامَةُ، اَلسَّاعَةُ ۔ اور کبھی نئی زمین اور نئے آسمان کے پیدا کئے جانے کے الفاظ سے اس کی حقیقت کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حضور نے تاریخ عالم میں کامیاب ہونے والی درج ذیل پانچ عالمگیر اور