انوارالعلوم (جلد 15) — Page viii
انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب خليفة یہ انوارالعلوم کی پندرہویں جلد ہے جو سیدنا حضرت فضل عمر طلیقہ اسیح الثانی کی ۲۸ دسمبر ۱۹۳۷ء سے جولائی ۱۹۴۰ ء تک کی ۲۴ مختلف تقاریر وتحریرات پر مشتمل ہے۔(۱) انقلاب حقیقی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۸ دسمبر ۱۹۳۷ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں یہ معرکتہ الآراء خطاب فرمایا جو بعد میں انقلاب حقیقی کے نام سے شائع ہوا۔حضور نے اصل موضوع کی طرف آنے سے پیشتر تمہیداً قومی زندگی کے لئے دو بنیادی اصولوں کا ذکر فرمایا جن کے بغیر قومی زندگی خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی قائم نہیں رہ سکتی۔ان میں سے پہلا اصول یہ ہے کہ :۔کوئی تحریک دنیا میں حقیقی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اُس میں کوئی نیا پیغام نہ ہو۔دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ:۔اصلاح کے ہمیشہ دو ذرائع ہوتے ہیں یا صلح یا جنگ یعنی یا تو صلح کے ساتھ وہ پیغام پھیلتا ہے یا جنگ اور لڑائی کے ساتھ پھیلتا ہے“۔اس کے بعد حضور نے انقلاب حقیقی کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیاوی لحاظ سے انقلاب حقیقی کے معنی ہیں رائج الوقت نظام کو مکمل طور پر ختم کر کے اُس کی جگہ کوئی نیا نظام قائم کرنا۔دینی اصطلاح میں انقلاب حقیقی کو مختلف الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔جیسے اَلْقَيَامَةُ، اَلسَّاعَةُ۔اور کبھی نئی زمین اور نئے آسمان کے پیدا کئے جانے کے الفاظ سے اس کی حقیقت کو ظاہر کیا گیا ہے۔اس کے بعد حضور نے تاریخ عالم میں کامیاب ہونے والی درج ذیل پانچ عالمگیر اور