انوارالعلوم (جلد 15) — Page 47
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی حکومت کے تمام پہلوؤں پر نظر کی اور ان کو یہنئی بات معلوم ہوئی کہ قتل اور خون اور جنگ کی ایک جائز صورت بھی ہے اور آدم سے بعض دفعہ یہ افعال صادر ہونگے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں اس کا یہ فعل پسندیدہ سمجھا جائے گا نہ کہ بُرا اور چونکہ اس سے پہلے نظام حکومت کی مثال نہ تھی یہ امر فرشتوں کو عجیب معلوم ہوا۔اُسی طرح جس طرح بعض لوگ جو حقیقت حال سے واقف نہیں رسول کریم ﷺ کی جنگوں پر اعتراض کرتے ہیں یا بعض قتل کی سزاؤں پر اعتراض کرتے ہیں۔پس فرشتوں کا سوال آدم کے افعال ہی کے متعلق ہے جو وہ بحیثیت حاکم وقت کرنے والا تھا اور انہیں یہ امر عجیب معلوم ہوتا ہے کہ وہ افعال یعنی جنگ اور قتل جو پہلے گناہ سمجھے جاتے تھے اب ان کو بعض حالتوں میں جائز سمجھا جائے گا۔اور وہ کہتے ہیں۔الہی ! آپ ایک ایسا خلیفہ مقرر کرتے ہیں اور ایسے کام اس کے سپرد کرتے ہیں کہ جو پہلے نا جائز تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیتا ہے کہ الي أعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ تم نہیں جانتے کہ اس نظام میں کیا خو بیاں ہیں۔گو بظاہر حکومت کے قیام سے بعض قسم کے جبر کی اجازت دی جاتی ہے اور انفرادی آزادی میں فرق آتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی یہ جبر اور قواعد فرد کے لئے بھی اور قوم کے لئے بھی مفید ہوتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ جو معنی میں نے کئے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے انِي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ کا فقرہ عبارت میں نہایت ہی عمدہ طور پر چسپاں ہو جاتا ہے اور دوسرے معنوں کے رو سے اس میں کسی قدر تکلف پایا جاتا ہے یا کم سے کم وہ معنی ایک دوسرے معنوں کے محتاج رہتے ہیں۔تمدن کی حقیقت یہ بھی ظاہر ہے کہ دنیا میں تمدن کے معنی ہی یہ ہیں کہ خون اور فساد کی بعض جائز صورتیں پیدا کی جائیں۔چنانچہ دیکھ لوزید قتل کرتا ہے اور وہ دنیا کے نزدیک قاتل قرار پاتا ہے مگر جب اسی زید کو گورنمنٹ پھانسی دیتی ہے تو وہ قاتل نہیں بنتی بلکہ اس کا فعل جائز اور مستحسن سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح لوگ اگر کسی کے مکان یا جائداد پر قبضہ کر لیں تو سب کہیں گے یہ فسادی ہیں مگر گورنمنٹ ملکی ضرورت کے ماتحت اگر جائدادوں پر قبضہ کر لے تو یہ فعل لوگوں کی نظر میں جائز سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو حبس بے جا میں رکھے تو یہ ظلم قرار دیا جاتا ہے۔لیکن گورنمنٹ اگر کسی کو نظر بند کر دے اور فردی آزادی میں دخل اندازی کرے تو یہ جائز بلکہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔