انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 43

انوارالعلوم جلد ۱۵ اور آخری زمانہ میں بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔انقلاب حقیقی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اولو العزم نبی کے زمانہ میں ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین پیدا کی جاتی ہے۔گویا روحانی طور پر دنیا بدل دی جاتی ہے اور پہلے نظام پر تبا ہی آکر ایک روحانی قیامت کے ذریعہ سے ایک نئی زندگی دنیا کو بخشی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود کا ایک کشف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کشف بھی گیا ہوں اور : - ہے کہ میں نے دیکھا میں اللہ تعالیٰ میں محو ہو اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔پھر میں نے منشائے حق کے موافق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔پھر میں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور کہا إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ۔پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ اس کشف سے بھی ظاہر ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص مشن ہوتا ہے اور وہ ایک ایسے تغیر کے لئے آتا ہے جو سابق نظام کے مقابل پر نئی زمین اور نیا آسمان کہلانے کا مستحق ہوتا ہے ہاں جب نئی شریعت آئے تو وہ پہلی شریعت کے مقابل پر نئی زمین اور نیا آسمان کہلاتی ہے کیونکہ خَيْرٌ مِنْهَا ہوتی ہے اور اگر پہلی شریعت کے قیام ہی کے لئے کوئی نبی آئے تو اس کی بعثت کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کے زمانہ میں دنیا میں جو تہذیب اور تمدن قائم ہوتا ہے اسے تباہ کر کے پھر نئے سرے سے مذہب کی حقیقی حکومت دنیا میں قائم کرے اور انہی معنوں میں وہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین بناتا ہے۔یعنی گودین جسے وہ قائم کرتا ہے پر انا ہوتا ہے مگر دنیا کی نگا ہوں میں وہ نیا ہوتا ہے کیونکہ اس زمانہ میں وہ دنیا سے مٹ چکا ہوتا ہے اور اس کی جگہ کوئی اور تہذیب قائم ہو چکی ہوتی ہے۔