انوارالعلوم (جلد 15) — Page 42
انوار العلوم جلد ۱۵ کوشش کا احساس کیوں پایا جاتا ہے؟ انقلاب حقیقی نیز آیات مذکورہ بالا میں بعث بعد الموت کے ثبوت میں بعث دُنیوی کو پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسلام پر ایک زمانہ میں پھر موت آنے والی ہے جبکہ اسلام کی تعلیم تو زندہ ہو گی مگر مسلمان اسے چھوڑ بیٹھیں گے۔اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایک مامور اور خادم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پھر اسے زندہ کرے گا اور یہ قیامت کا ایک زبر دست ثبوت ہوگا کیونکہ سوائے خدا کے کون تیرہ سو سال پہلے اسلام کی نشاۃ اولی کی اور پھر اس پر جمود کی حالت طاری ہو جانے کی اور پھر دوسری دفعہ اس زمانہ میں احیاء کی خبر دے سکتا ہے جبکہ چاند اور سورج کو ایک خاص مہینہ میں ایک مدعی کے زمانہ میں گرہن لگے گا اور دنیا ظاہری علوم سے پُر ہوگی اور دہریت کا غلبہ ہو گا ؟ اور جب قرآن کریم کی بتائی ہوئی قیامت تیرہ سو سال بعد آ جائے گی تو ثابت ہو جائے گا کہ قرآن کا خدا عالم الغیب بھی ہے اور قادر بھی۔پھر اس عالم الغیب خدا کی اس خبر کو لوگ کس طرح جھٹلا سکتے ہیں جو مابعد الموت کے متعلق ہے اور اس قادر خدا کی قدرت کو دیکھ کر قیامت کے وجود کو کیونکر ناممکن قرار دے سکتے ہیں۔چنانچہ جب پہلی قیامت کا ظہور ہوگا سمجھدار انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کی کونسی جگہ ہے یعنی اس حجت کو دیکھ کر کوئی عقلمند انسان ایک زبر دست ہستی کا انکار نہیں کر سکے گا جس کے قبضہ میں سب کا رخانہ عالم ہے اور جسے طاقت ہے کہ جو چاہے کرے اور جو عالم الغیب ہے جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ہر نئے بنی کے زمانہ میں نئے آسمان و حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۵۶۶ زمین کی تخلیق پر مسیح موعود کی شہادت پر لکھتے ہیں:۔” وَأُلْقِيَ فِي قَلْبِي اَنَّ اللَّهَ إِذَا اَرَادَ أَنْ يَخْلُقُ ادَمَ فَيَخْلُقُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَ يَخْلُقُ كُلَّ مَا لَا بُدَّ مِنْهُ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِيْنَ ثُمَّ فِي اخِرِ الْيَوْمِ السَّادِسِ يَخْلُقُ ادَمَ وَ كَذلِكَ جَرَتْ عَادَتُهُ فِي الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ، ۳۲ کہ خدا تعالیٰ نے میرے دل پر یہ بات نازل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی آدم کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو آسمان اور زمین کو چھ دن میں پیدا کرتا ہے اور ہر ضروری چیز کو آسمان وزمین میں بناتا ہے۔پھر چھٹے دن کے آخر میں آدم کو پیدا کرتا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی سنت پہلے زمانوں میں تھی