انوارالعلوم (جلد 15) — Page 608
انوار العلوم جلد ۱۵ چاند۔میرا چاند پاکیزہ جذبہ ہے اسے کس طرح بعض لوگ ضائع کر دیتے ہیں اور اس کی بے پناہ طاقت کو محبوب حقیقی کی ملاقات کیلئے خرچ کرنے کی جگہ اپنے لئے وبالِ جان بنا لیتے ہیں اور میں نے اپنے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ہے محبت ایک پاکیزہ امانت اے عزیز عشق کی عزت ہے واجب عشق سے کھیلا نہ کر پھر میری نگاہ سمندر کی لہروں کی طرف اُٹھی جو چاند کی روشنی میں پہاڑوں کی طرح اٹھتی ہوئی نظر آتی تھیں اور میری نظر سمندر کے اس پار ان لوگوں کی طرف اٹھی جو فرانس کے میدان میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہر روز اپنی جانیں دے رہے تھے اور میں نے خیال کیا کہ ایک وہ بہادر ہیں جو اپنے ملکوں کی عزت کیلئے یہ قربانیاں کر رہے ہیں، ایک ہندوستانی ہیں جن کو اپنی تن آسانیوں سے ہی فرصت نہیں اور مجھے اپنی مستورات کا خیال آیا کہ وہ کس طرح قوم کا بے کار عضو بن رہی ہیں اور حقیقی کوشش اور سعی سے محروم ہو چکی ہیں۔کاش کہ ہمارے مردوں اور عورتوں میں بھی جوشِ عمل پیدا ہو اور انہیں یہ احساس ہو کہ آخر وہ بھی تو انسان ہیں جو سمندر کی لہروں پر کودتے پھرتے ہیں اور اپنی قوم کی ترقی کیلئے جانیں دے رہے ہیں، جو میدانوں کو اپنے خون سے رنگ رہے ہیں اور ذرہ بھی پرواہ نہیں کرتے کہ ہمارے مرجانے سے ہمارے پسماندگان کا کیا حال ہو گا۔اور میں نے کہا۔ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی جا لپٹ جا لہر سے دریا کی۔کچھ پروا نہ کر جب میں نے یہ شعر پڑھا۔میری لڑکی امتہ الرشید نے کہا ابا جان دیکھیں آپا دودی کو کیا ہو گیا ہے۔میں نے کہا کیا ہوا ہے۔اس نے کہا اس کا جسم تھر تھر کانپنے لگ گیا ہے۔میں نے پوچھا دودی تم کو کیا ہوا ہے۔اس نے جیسے بچیاں کہا کرتی ہیں کہا کچھ نہیں اور ہم سمندر کے پانی کے پاس سے ہٹ کر باقی ساتھیوں کے پاس آگئے اور وہاں سے گھر کو واپس چل پڑے۔امتہ الودود کی وفات کے بعد میں یہی شعر پڑھ رہا تھا کہ صدیقہ بیگم نے مجھے بتایا کہ امتہ الودود نے مجھ سے ذکر کیا کہ شاید چا ابا نے یہ شعر میرے متعلق کہا تھا تب میں نے مرحومہ کے کانپنے کی وجہ کو سمجھ لیا۔وہ امتحان دے چکی تھی اور تعلیم کا زمانہ ختم ہونے کے بعد اس کے عمل کا زمانہ شروع