انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 607

انوار العلوم جلد ۱۵ چاند میرا چاند امتحان لیتا ہے اور سالک اپنی کوششوں کو بے اثر پاتا ہے۔کئی تھوڑے دل والے مایوس ہو جاتے ہیں اور کئی ہمت والے کوشش میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کی مراد پوری ہو جاتی ہے مگر یہ دن بڑے ابتلاء کے دن ہوتے ہیں اور سالک کا دل ہر لحظہ مُرجھایا رہتا ہے اور اس کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔چونکہ چاند کے عکس کا اس طرح آگے آگے دوڑتے چلے جانے کا بہترین نظارہ کشتی میں بیٹھ کر نظر آتا ہے جو میلوں کا فاصلہ طے کرتی جاتی ہے مگر چاند کا عکس آگے ہی آگے بھاگا چلا جاتا ہے۔اس لئے میں نے کہا۔بیٹھ کر جب عشق کی کشتی میں آؤں تیرے پاس آگے آگے چاند کی مانند تو بھاگا نہ کر میں نے اس شعر کا مفہوم دونوں بچیوں کو سمجھانے کیلئے ان سے کہا کہ آؤ ذرا میرے ساتھ سمندر کے پانی میں چلو اور میں انہیں لے کر کوئی پچاس ساٹھ گز سمندر کے پانی میں گیا اور میں نے کہا دیکھو چاند کا عکس کس طرح آگے آگے بھاگا جاتا ہے اسی طرح کبھی کبھی بندہ کی کوششیں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بیکار جاتی ہیں اور وہ جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی اللہ تعالی پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس وقت سوائے اس کے کوئی علاج نہیں ہوتا کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی سے رحم کی درخواست کرے اور اسی کے کرم کو چاہے تا کہ وہ اس ابتلاء کے سلسلہ کو بند کر دے اور اپنی ملاقات کا شرف اسے عطا کرے۔اس کے بعد میری نظر چاند کی روشنی پر پڑی، کچھ اور لوگ اس وقت کہ رات کے بارہ بجے تھے سیر کیلئے سمندر پر آگئے ، ہوا تیز چل رہی تھی لڑکیوں کے برقعوں کی ٹوپیاں ہوا سے اُڑی جارہی تھیں اور وہ زور سے ان کو پکڑ کر اپنی جگہ پر رکھ رہی تھیں۔وہ لوگ گو ہم سے دُور تھے مگر میں لڑکیوں کو لے کر اور دور ہو گیا اور مجھے خیال آیا کہ چاند کی روشنی جہاں دلکشی کے سامان رکھتی ہے وہاں پردہ بھی اٹھا دیتی ہے اور میرا خیال اس طرف گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کبھی بندہ کی کمزوریوں کو بھی ظاہر کر دیتے ہیں اور دشمن انہیں دیکھ کر ہنستا ہے اور میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا۔اے شعاع نور یوں ظاہر نہ کر میرے عیوب غیر ہیں چاروں طرف ان میں مجھے رسوا نہ کر اس کے بعد میری نظر بندوں کی طرف اُٹھ گئی اور میں نے سوچا کہ محبت جو ایک نہایت