انوارالعلوم (جلد 15) — Page 606
انوار العلوم جلد ۱۵ محبوب کی یاد میں کچھ شعر خود کہے۔جو یہ ہیں :۔یوں اندھیری رات میں اے چاند تو چپکا نہ نہ کر حشر اک سیمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر کیا لپ دریا مری بے تابیاں کافی نہیں تو جگر کو چاک کر کے اپنے یوں تڑپا نہ کر چاند میرا چاند اس کے بعد میری توجہ براہِ راست اس محبوب حقیقی کی طرف پھر گئی جس کے حسن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر میں اشارہ کیا گیا ہے اور میں نے اسے مخاطب کر کے چند شعر کہے۔جو یہ ہیں :۔دُور رہنا اپنے عاشق سے نہیں دیتا ہے زیب آسمان پر بیٹھ کر تو یوں مجھے دیکھا نہ کر بے شک چاند میں سے کسی وقت اللہ تعالیٰ کا حُسن نظر آتا ہے مگر ایک عاشق کیلئے وہ کافی نہیں۔وہ چاہتا ہے کہ اس کا محبوب چاند میں سے اسے نہ جھانکے بلکہ اس کے دل میں آئے اس کے عرفان کی آنکھوں کے سامنے قریب سے جلوہ دکھائے ، اس کے زخمی دل پر مرہم لگائے اور اس کے دُکھ کی دوا خود ہی بن جائے کہ اس دوا کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں مگر کبھی تو ایسا ہوتا۔نا ہے کہ اس محبوب حقیقی کا عاشق چاند میں بھی اس کا جلوہ نہیں دیکھتا۔چاند میں ایک پھیکی ٹکیہ سے زیادہ کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس محبوب نے اپنا چہرہ اس سے بھی چھپا رکھا ہے کہ کہیں اس میں سے اس کا عاشق اس کا چہرہ نہ دیکھ لے اور وہ کہتا ہے کہ کاش چاند کے پردہ پر ہی اس کا عکس نظر آ جائے اور میں نے کہا۔عکس تیرا چاند میں گر دیکھ لوں کیا عیب ہے اس طرح تو چاند سے اے میری جاں پردہ نہ کر پھر میری نظر سمندر کی لہروں پر پڑی جن میں چاند کا عکس نظر آتا تھا اور میں اس کے قریب ہوا اور چاند کا عکس اور پرلے ہو گیا۔میں اور بڑھا اور عکس اور دُور ہو گیا اور میرے دل میں ایک درد اُٹھا اور میں نے کہا۔بالکل اسی طرح کبھی سالک سے سلوک ہوتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کیلئے کوشش کرتا ہے مگر بظاہر اس کی کوششیں ناکامی کا منہ دیکھتی ہیں، اس کی عبادتیں ، اس کی قربانیاں ، اس کا ذکر ، اس کی آہیں کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے استقلال کا