انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 31

انوارالعلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کی تعلیم کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا اور اس عمارت کی اینٹ بن گئے جس کی تعمیر وقت کے نبی کے ہاتھوں ہورہی ہوتی ہے ان کے لئے کوئی خوف اور کوئی خون نہیں لیکن اس کے برخلاف جو لوگ ا اپنے آپ کو اس تعلیم کے مطابق نہیں بناتے اور نئی عمارت کا جو و بننے سے انکار کر دیتے ہیں۔يَمَسُّهُمُ العبُ بِما كانُوا يَفْسُقُون ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اُترتا ہے اور بوسیدہ عمارت کی طرح انہیں تو ڑ کر رکھ دیتا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو نبی بھی دُنیا میں آتا ہے بعثت انبیاء کا مقصد وہ اسی لئے آتا ہے کہ اپنے سے پہلے نظام کو توڑ دے اور ایک نیا نظام قائم کرے اور اس کی آمد کے بعد وہی حیات کو پاتا ہے جو اس کے نظام کو قبول کرے۔یہ بات ہر نبی کی بعثت کے بعد ضرور ظاہر ہوتی ہے خواہ وہ نبی چھوٹے ہوں یا بڑے لیکن جو اولوالعزم رسل ہوں اُن کے آنے پر تو گویا ایک قیامت آجاتی ہے جس طرح کہ ان جدید تحریکات کے ظہور پر ہوتا ہے جن کا ذکر میں اوپر کر آیا ہوں۔ہاں جو شرعی رسول آتے ہیں وہ اپنے سے پہلے نبی کے نظام کو بھی تو ڑ دیتے ہیں لیکن جو شریعت نہیں لاتے گو وہ پہلے نبی کے نظام کو تو نہیں توڑتے لیکن اُس رائج الوقت نظام کو ضرور توڑ دیتے ہیں جو پہلے شریعت لانے والے نبی کی شریعت کو بگاڑ کر لوگوں نے اپنی خواہشات کے مطابق قائم کر لیا ہوتا ہے۔مذہب میں جو اس قسم کے انقلابات ہوتے ہیں ان مذہبی انقلابات کا طریق سے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ماننسخ مِنْ آيَةٍ او ننسها تأتِ بِخَيْرٍ منها أو مثلِهَا، أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - الم تعلم ان الله لَهُ مُلْكُ السّناتِ وَالْأَرْضِ ، وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ من ولي ولا نصیر ۳ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے گزشتہ زمانوں میں جو پیغام آتے رہے ہیں یا آئندہ آئیں گے ان سب کے متعلق ایک قانون جاری ہے اور وہ یہ ہے کہ بھی تو وہ اپنی ضرورت کو پورا کر چکتے ہیں اور اس قابل ہوتے ہیں کہ انہیں ملا دیا جائے اور اُن کی جگہ ایک نیا نظام آسمان سے اُتارا جائے اور کبھی لوگ انہیں بھلا دیتے ہیں اور صرف اس امر کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو نظام لوگوں کی غفلت کی وجہ سے الہی نظام کی جگہ قائم ہو گیا ہے اسے مٹا کر پھر نئے سرے سے وہی پہلا الہی نظام قائم کیا جائے۔جب الہی نظام ہی اپنی ضرورت پوری کر کے مٹائے جانے کے قابل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہتر نظام دُنیا میں بھجوا دیتا ہے اور جب وہ