انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 582

انوار العلوم جلد ۱۵ میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں گرے ہوئے بھائی کو اُٹھاتا ہے۔اور وہ کہتا ہے کہ کوئی ملک دوسرے ملک سے اور کوئی قوم دوسری قوم سے دشمنی نہ کرے اور ایک دوسرے کا حق نہ مارے بلکہ سب مل کر دنیا کی ترقی کیلئے کوشش کریں اور ایسا نہ ہو کہ بعض قو میں اور ملک اور افراد آپس میں مل کر بعض دوسری قوموں اور ملکوں اور افراد کے خلاف منصوبہ کریں بلکہ یوں ہو کہ قومیں اور ملک اور افراد آپس میں یہ معاہدے کریں کہ وہ ایک دوسرے کو ظلم سے روکیں گے اور دوسرے ملکوں اور قوموں اور افراد کو ابھاریں گے۔غرض میں دیکھتا ہوں کہ اس دنیا کے پردہ پر میں اور میرے پیارے کوئی بھی ہوں کیا ہوں اور کچھ بھی ہوں اسلام ہمارے لئے امن اور آرام کے سامان پیدا کرتا ہے۔میں اپنے آپ کو جس پوزیشن میں بھی رکھ کر دیکھتا ہوں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم کی وجہ سے میں اس پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی ترقی اور کامیابی کی راہوں سے محروم نہیں ہو جاتا پس چونکہ میرا نفس کہتا ہے کہ اسلام میرے لئے اور میرے عزیزوں کے لئے اور میرے ہمسایوں کیلئے اور اس اجنبی کے لئے جسے میں جانتا تک نہیں اور عورتوں کے لئے اور مردوں کیلئے اور بزرگوں کیلئے اور خوردوں کیلئے اور غریبوں کیلئے اور امیروں کیلئے اور بڑی قوموں کیلئے اور ادنی قوموں کیلئے اور ان کے لئے بھی جو اتحادِ اُم چاہتے ہیں اور حُبُّ الوطنی میں سرشاروں کیلئے بھی یکساں مفید اور کارآمد ہے اور میرے لئے اور میرے خدا کے درمیان یقینی رابطہ اور اتحاد پیدا کرتا ہے۔پس میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ایسی چیز کو چھوڑ کر اور کسی چیز کو میں مان بھی کیونکر سکتا ہوں۔ریویو آف ریلیجنز مارچ ۱۹۴۰ء صفحه ۲۶ تا ۳۱) ابن ماجه كتاب النكاح باب حسن معاشرة النساء بخاری کتاب الادب باب المَعَاريضُ مندوحة عن الكذب ترمذی کتاب البر والصلة باب ماجاء في النفقة على البنات اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا، وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ ان تحكموا بالعدل، اِنَّ اللهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ( النساء: ٥٩) ه ابن ماجه كتاب الرهون باب اجر الاجراء