انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 30

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی انقلاب کے معنی ہیں کسی چیز کا گلیہ بدل جانا۔اب اگر تم ایک پرانی عمارت کی جگہ پرنئی عمارت بنانا چا ہو جس کا نقشہ بالکل نیا ہو تو لازماً تمہیں پہلی عمارت کو گرا دینا پڑے گا اور کوئی بیوقوف ہی ہو گا جونئی عمارت تو بنانا چاہے مگر پرانی عمارت کو توڑنے کیلئے تیار نہ ہو۔قرآن کریم نے بھی مذہبی ترقی کو اسی انقلابی طریق سے وابستہ قرار دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ه وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِايَتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ۲۲ کہ ہم دنیا میں جب بھی کوئی رسول بھیجتے ہیں وہ ہمیشہ دُنیا میں دو اعلان کرتا ہے۔ایک تو یہ کہ اس کی آمد سے پہلے جو نظام جاری تھا وہ اس کی موت کا اعلان کر دیتا ہے۔دوسرے یہ کہ وہ اپنے لائے ہوئے سسٹم کے متعلق غیر مہم الفاظ میں اعلان کر دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلی شکل میں دُنیا میں قائم کیا جائے گا اور کسی اثر یاد باؤ کی وجہ سے یا کسی قوم سے سمجھوتہ کرنے کی غرض سے اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔ان اعلانات کے بعد جو لوگ تو اس جدید سسٹم کے تابع اپنے آپ کو کر لیتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کے رنگ میں ڈھال لیتے ہیں وہ تباہی سے بچ جاتے ہیں جو ایسا نہیں کرتے وہ آہستہ آہستہ مٹ جاتے ہیں۔اضلع کے معنی اپنے آپ کو کسی چیز کے مطابق بنا لینے کے ہیں۔پس عمل صالح کے یہ معنی ہیں کہ وہ عمل جو اس نئی تحریک کے مطابق ہوں۔عمل صالح کے معنی نیک عمل کے نہیں ہوتے جیسا کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں۔نیک کام اور عمل صالح میں فرق ہے۔مثلاً نماز پڑھنا ایک نیک کام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص جہاد کے وقت نماز پڑھنا شروع کر دے تو ہم کہیں گے کہ اس نے عملِ صالح نہیں کیا۔یا روزہ ایک نیک عمل ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جہاد کے موقع پر بعض روزہ رکھنے والوں کے متعلق فرمایا کہ آج وہ لوگ جو بے روزہ تھے ثواب میں روزہ داروں سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ اِن روزہ داروں نے ایسی حالت میں روزہ رکھا جب کہ روزہ نہ رکھنا حالات کے لحاظ سے زیادہ مناسب تھا۔ا غرض عملِ صالح عربی زبان میں مناسب حال فعل کو کہتے ہیں۔پس فَمَنْ آمَنَ وَاصْلَحَ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جو لوگ رسولوں پر ایمان لائے اور انہوں نے نمازیں پڑھیں اور روزے رکھے وہ ہلاکت سے بچ گئے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے انبیاء