انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 576

انوار العلوم جلد ۱۵ کارکنان جلسہ خلافت جو بلی ۱۹۳۹ء سے خطاب مہمان نواز قرار دیا ہے۔ بے شک ایک دوست دوست کی میزبانی کرتا ہے۔ مگر وہ ایک رنگ کا سودا ہوتا ہے ۔ ایک رشتہ دار اپنے رشتہ دار کی میزبانی کرتا ہے۔ اور وہ بھی ایک سودا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے تعلق کی وجہ سے مہمان نوازی کرتا ہے ۔ مگر آپ لوگ جن لوگوں کی میزبانی کرتے ہیں ۔ ان سے کوئی دنیوی تعلق نہیں ہوتا اور یہی دراصل مہمانی ہے جو خدا تعالیٰ کی رحمت کے سایہ کے نیچے آپ لوگوں کو لے جانے والی ہے اور یہی وہ مہمانی ہے جو شاذ و نادر ہی کسی کو نصیب ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ نے قادیان والوں کو عطا کر رکھی ہے۔ یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اگر اخلاص سے آپ لوگ کام لیتے ہوں تو نہ معلوم کتنے اُحد پہاڑوں کے برابر آپ کو ثواب حاصل ہوتا ہوگا۔ ممکن ہے کہ جب ہماری جماعت بڑھ جائے اور یہاں قادیان میں ایسے جلسے کرنا مشکل ہو جائیں تو پھر ہم اجازت دیں دیں ۔ کہ ہر ملک میں الگ سالانہ جلسے ہوا کریں اس وقت ان ممالک میں کام کرنے والے بھی ثواب کے مستحق ہوا کریں گے ۔ مگر وہ وقت تو آئے گا جب آئے گا ۔ اس وقت تو آپ لوگوں پ لوگوں کے سوا ایسی خوش قسمت جماعت اور اعت اور کوئی نہیں ۔ اب میں دعا کرتا ہوں آپ لوگ بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہماری اس حقیر خدمت کو قبول فرمائے اور ہماری غلطیوں ، ہستیوں اور کمزوریوں سے درگزر کرے تا ایسا نہ ہو کہ غلطیاں ہماری نیکیوں کو کھا جانے والی ہوں۔ اور ہم آئندہ سال اس سے بھی بڑھ کر خدمتِ خلق کر کے اپنے خدا کو راضی کر سکیں ۔ ( الفضل و ر جنوری ۱۹۴۰ء ) ا قادیان ۶ جنوری جلسہ خلافت جو بلی ۱۹۳۹ء کے انتظامات بخیر و خوبی ختم ہونے پر مدرسہ احمدیہ کے صحن میں صبح سوا نو بجے کے قریب کارکنان جلسہ کا اجتماع ہوا۔ جہاں سٹیج پر لاؤڈ سپیکر کا بھی انتظام کیا گیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے تشریف لانے پر جلسہ سالانہ کے انتظامات کرنے والی پانچ نظامتوں کی طرف سے رپورٹیں سنائی گئیں۔ پھر حضرت صاحب نے سوا دس بجے سے سوا بارہ بجے تک تقریر فرمائی جس میں حضور نے اہم امور کی اصلاح کے متعلق ہدایات دیں۔ پاجی : ذلیل، کمینہ البقرة : ۴ بخارى كتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحي (الخ)