انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 575

انوار العلوم جلد ۱۵ کارکنان جلسہ خلافت جو بلی ۱۹۳۹ ء سے خطاب ہیں۔میں نے کہا ہمارے ہاں مستورات کے لئے الگ جلسہ گاہ ہے تو وہ کہنے لگے پھر آپ کے جلسہ کے مردوں کی اس تعداد کے ساتھ مستورات کی تعداد بھی شامل کر لی جائے تو کانگرس کے اجتماع میں بھی شاید اتنے ہی مرد عور تیں ہوتی ہوں۔غرض قادیان کا جلسہ سالانہ اب کم از کم ہندوستان میں دوسرے نمبر پر ہے۔اور اپنے انتظام کے لحاظ سے تو دنیا بھر کے اجتماعوں سے اول نمبر پر ہے۔کیونکہ ایسا انتظام کھانا کھلانے کا قادیان کے سوا اور کسی اتنے بڑے اجتماع میں نہیں ہوتا۔ہاں میلے بے شک ہوتے ہیں۔جن میں بڑے بڑے اجتماع ہوتے ہیں مگر ان میں نہ تو رہائش کا انتظام ہوتا ہے نہ کھانے کا اور نہ روشنی کا۔پس قادیان کا یہ جلسہ ایک لحاظ سے اول نمبر پر اور تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر۔اور جس رنگ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کی ترقی ہو رہی ہے اس کے لحاظ سے ہمارا جلسہ سالانہ انشاء اللہ کسی وقت کا نگرس سے بھی ہر لحاظ سے اول نمبر پر ہوگا۔اس کے بعد حضور نے انتظامی امور کے متعلق متعلقہ صیغوں کو ہدایات دیں اور آخر میں فرمایا۔میں ان سب دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس خدمت دین میں حصہ لیا۔اور محنت و مشقت سے جی نہ چرایا۔دیکھو خدا تعالیٰ نے اس خدمت میں تم لوگوں کو منفر د کیا ہے۔اور منفرد ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔بعض لوگ تو منفرد ہونے کے لئے بعض پاجی کے کام بھی کر لیتے ہیں جیسا کہ چاہ زمزم میں پیشاب کرنے والے کے متعلق مشہور ہے۔اس وقت خدا کے فضل سے آپ لوگوں کو قومی طور پر یہ فخر حاصل ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ خدا تعالیٰ کے مہمانوں کی میزبانی کا کام سپر د کیا گیا ہے یہ میز بانی اور اتنی بڑی جماعت کی اس رنگ میں میزبانی کسی اور کے سپرد نہیں کی گئی آپ لوگوں کے ہی مکان ایسے ہیں جو خدا کے دین کیلئے آنے والے مہمانوں کیلئے وقف ہوتے ہیں۔مکہ میں بھی بے شک مہمانوں کیلئے مکانات دیے جاتے ہیں۔مگر وہ کرایہ لیتے ہیں۔یہ صرف قادیان ہی کے مکانات ہیں۔جن کی نسبت ممّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ سے کے مطابق خرچ کرنے کا آپ لوگوں کو موقع ملتا ہے۔پھر آپ لوگ ہی ایک ایسی جماعت ہیں جسے وہ شرف حاصل ہے جس کا حضرت خدیجہ نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے یوں ذکر کیا تھا کہ خدا کی قسم خدا تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ مہمان نواز ہیں کے پس یہ کوئی معمولی چیز نہیں۔بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص انعامات سے ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔قیامت کے دن پانچ شخص ایسے ہوں گے جن پر خدا تعالیٰ اپنا سایہ کرے گا۔ان میں سے آپ نے ایک