انوارالعلوم (جلد 15) — Page 574
انوار العلوم جلد ۱۵ کارکنان جلسہ خلافت جو بلی ۱۹۳۹ ء سے خطاب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ کارکنان جلسہ خلافت جو بلی ۱۹۳۹ء سے خطاب ( فرموده ۶ /جنوری ۱۹۴۰ ء ) له تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں جس نے باوجود ہر قسم کے موانع اور ہر قسم کی کمیوں کے گزشتہ سالوں سے زیادہ اس بات کی توفیق بخشی کہ اس کے قائم کردہ سلسلہ اور دین کیلئے جمع ہونے والے مہمانوں کی خدمت کیلئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حوصلہ اپنے اخلاص اور اپنی طاقت و ہمت کے مطابق موقع ملا۔ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے اندر بھی ایسا اجتماع کہیں نہیں ہوتا۔جس میں اتنی مقدار میں مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہو۔انگلستان ، امریکہ ، جرمنی ، فرانس اور روس یہ اس وقت ترقی یافتہ اور بڑے بڑے ممالک خیال کئے جاتے ہیں مگر ان میں تمہیں چالیس ہزار آدمیوں کے اجتماع ایسے نہیں ہوتے جن کو کھا نا کھلایا جا تا ہو۔ہندوستان میں کانگرس کے اجتماع بے شک بڑے ہوتے ہیں۔گزشتہ سال میں نے نمائندے تحریک جدید سے وہاں بھجوائے تو انہوں نے بتایا کہ ان کو کھانا مفت ملنا تو الگ مول لینے میں بھی دھنیں پیش آئیں۔غرض یہ ہمارے جلسہ کی خاص خصوصیت ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ جن کو دوسرے اجتماع دیکھنے کا موقع ملا ہے۔جب وہ یہاں آتے ہیں تو ہمارے انتظام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔اسی سال یو۔پی کے ایک اخبار کے نمائندے جو بعض انگریزی اخبارات کے بھی نمائندے رہ چکے ہیں۔اور کانگرس سے تعلق رکھتے ہیں یہاں آئے تو انہوں نے ملاقات کے وقت کہا کہ کانگرس کے اجلاس سے اُتر کر ہندوستان میں اتنا بڑا اجتماع میں نے کہیں نہیں دیکھا۔میں نے کہا سنا ہے کانگرس کے اجلاس میں لاکھ لاکھ دو دو لاکھ آدمی شریک ہوتے ہیں کہنے لگے لاکھ دو لاکھ تو ہر گز نہیں چالیس پچاس ہزار کے قریب ہوتے ہیں۔اور مرد عورتیں اکٹھے ہوتے