انوارالعلوم (جلد 15) — Page 29
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ہندوستان میں پیدا ہوگا ویسا ہی ہوگا جیسا کہ انگلستان میں مسٹر بالڈون (BALDWIN) کی جگہ مسٹر چیمبر لین (CHAMBERLAIN) نے لے لی ہے یا آئندہ ان کی جگہ شاید میجر ایٹلمی (MAJOR ATTLEE) لے لیں۔ورنہ اگر کوئی نئی تہذیب اس عرصہ میں رونما نہ ہوئی تو مغربیت ہی یہاں حکومت کر رہی ہوگی گو اس کی شکل کسی قدر بدل گئی ہو۔گاندھی جی جو ایک فلسفہ کے موجد کہے جاتے ہیں وہ بھی باوجود زبانی مغربیت کے اثر کو ر ڈ کرنے کے اسی فلسفہ کے تابع چل رہے ہیں۔جب بھی وہ کوئی نئی بات سوچتے ہیں وہ اسی مغربی تہذیب کے تابع ہوتی ہے اور چونکہ مغربی تہذیب کی بنیاد مادیت پر ہے جس کا یہ اُصول ہے کہ مُنہ سے کچھ اور کہو اور عمل کچھ اور رکھو، اس لئے گاندھی جی کے پیرو بھی منہ سے تو امن امن کہتے ہیں مگر اندر سے لڑائی کی تیاریاں جاری رکھتے ہیں۔اتباع منہ سے شور مچاتے ہیں کہ آہنسا ت قائم کرو ، آہنسا قائم کر دمگر عملاً ہر اختلاف کے موقع پر بیسیوں مسلمانوں کو ذبح کرا دیتے ہیں کیونکہ یہ اصول صرف کہنے کیلئے ہیں عمل کرنے کیلئے نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب مادیت کے اثر کے نیچے انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگلا جہان کو ئی نہیں تو پھر ا سے اس شخص کو تباہ کرنے سے کونسی چیز روک سکتی ہے جسے وہ اپنا دشمن سمجھ بیٹھتا ہے۔وہ تو ہر رنگ میں اپنے مد مقابل کو زک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔پس کانگرسی گومنہ سے یہ کہتے جائیں کہ ہم گاندھی فلسفہ کے پیرو ہیں مگر حقیقتا ان کا عمل مغربی فلسفہ پر ہی ہے اور جب تک مادیت کا اثر ان کے دلوں پر سے دُور نہ ہوگا وہ یورپ کے واقعات کو ہندوستان کی سٹیج پرتمثیلی رنگ میں دکھاتے رہیں گے۔غرض ان پانچوں تحریکوں کی کامیابی کی اصل وجہ یہی ہے کہ ان کے پیچھے ایک فلسفہ تھا۔ان کے بانی ، لوگوں کے ملک پر ہی قبضہ نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے دل ودماغ کو بھی غلام بنا لیتے تھے جو غلامی کہ جسمانی غلامی کے دُور ہو جانے کے بعد بھی بعض دفعہ سینکڑوں ہزاروں سال تک جاری رہتی تھی۔انقلا مذہبی دنیا میں بھی حقیقی کامیابی مذہبی دنیا میں بھی بھی قانون جاری ہے۔اس میں بھی حقیقی کامیابی انقلاب کے ذریعہ سے اور سے ہی ہوتی ہی ہوئی ہے انقلاب ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر انقلاب نہ ہو تو مذہب کبھی کامیاب نہ ہو کیونکہ یہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے اور قانونِ قدرت خدا کا فعل ہے اس کو نظر انداز کر کے کامیابی نہیں ہوسکتی۔