انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 565

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اگر دن کو رات کہتے تو یہ بھی رات کہنے لگ جاتے ان کی خواجہ صاحب کی وفات سے دو سال پہلے آپس میں وہ لڑائی ہوئی اور ایک دوسرے پر ایسے ایسے اتہامات لگائے گئے کہ حد ہوگئی۔پھر ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور ان کی انجمن کے دوسرے ممبروں میں احمد یہ بلڈنگس میں عَلَى الْإِعْلَانُ لڑائی ہوئی۔یہاں تک کہ بعضوں نے کہہ دیا ہم عورتوں کو پکڑ کر یہاں سے نکال دیں گے۔کل بھی انہی میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا ہوا تھا اور کہتا تھا کہ میری جائداد فلاں شخص لوٹ کر کھا گیا ہے آپ میری کہیں سفارش کر دیں۔غرض جس طرح الہام میں بتایا گیا تھا اسی طرح واقعہ ہوا اور ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔اس کے مقابلہ میں وہ پچیس سالہ نوجوان جسے یہ تحقیر سے بچہ کہا کرتے تھے اسے خدا تعالیٰ نے ایسی طاقت دی کہ جب بھی کوئی فتنہ اٹھتا ہے اس وقت وہ اسے اس طرح کچل کر رکھ دیتا ہے جس طرح لکھی اور مچھر کو مسل دیا جاتا ہے اور کسی کی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ مقابلہ میں دیر تک ٹھہر سکے۔اللہ تعالیٰ پر کامل یقین پانچویں علامت اللہ تعالیٰ نے بچے خلفاء کی یہ بتائی ہے کہ:۔يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔اس علامت کے مطابق بھی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی کسی سے نہیں ڈرا۔احتیاط میرے اندر حد درجہ کی ہے اور میں اسے عیب نہیں بلکہ خوبی سمجھتا ہوں لیکن جب مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ فلاں بات یوں ہے تو پھر میں نے مشکلات کی کبھی پروانہیں کی۔یہی وجہ ہے کہ باوجو د شدید ترین خطرات کے خدا تعالیٰ نے ہمیشہ مجھے مداہنت سے بچایا ہے اور کبھی بھی میں جھوٹی صالح کی طرف مائل نہیں ہوا۔میں نے ایک دفعہ رویا میں مستریوں کے فتنہ کے بارہ میں ایک رؤیا دیکھا کہ میں بہشتی مقبرہ کی طرف سے آ رہا ہوں اور میرے ساتھ میر محمد اسحاق صاحب ہیں راستہ میں ایک بڑا سمندر ہے جس میں ایک کشتی بھی موجود ہے۔میں اور میر محمد اسحاق صاحب دونوں اس کشتی میں بیٹھ گئے اور چل پڑے۔جب وہ کشتی اس مقام پر پہنچی جہاں مستریوں کا مکان ہوا کرتا تھا تو وہ پھنور میں پھنس گئی اور چکر کھانے لگی۔اتنے میں اس سمندر میں سے ایک سرنمودار ہوا اور اس نے کہا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے تم ان کے نام ایک رقعہ لکھ کر ڈال دو تا کہ یہ کشتی بھنور سے نکل جائے اور تم سلامتی کے ساتھ منزل مقصود پر پہنچ جاؤ۔میں نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا یہ سخت مشرکانہ فعل ہے۔اس کے