انوارالعلوم (جلد 15) — Page 564
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده یہ الہام نازل کیا ہے کہ :- کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے پس میں ان سے صلح نہیں کر سکتا۔رہا تمہارا مجھے یہ تحریک کرنا سو یا د رکھو تم خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی حجت کے نیچے ہو۔تم نے حضرت خلیفہ اول کی زبان سے میرے متعلق بار ہا ایسا ذکر سنا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے بعد خدا تعالیٰ مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کرے گا پھر تم خود میرے متعلق ایک کتاب لکھ رہے تھے جس میں ان پیشگوئیوں کا ذکر تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے متعلق کیس پس تم پر حجت تمام ہو چکی ہے اور تم میرا انکار کر کے اب دہریت سے ورے نہیں رہو گے۔یہ خط میں نے اسے لکھا اور ابھی اس پر ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ دہر یہ ہو گیا۔چنانچہ وہ آج تک دہر یہ ہے اور على الإغلانُ خدا تعالیٰ کی ہستی کا منکر ہے حالانکہ وہ حضرت خلیفہ اول کی وفات سے بارہ تیرہ دن پہلے میری بیعت کیلئے تیار تھا اور پھر میرے متعلق ایک کتاب بھی لکھ رہا تھا جس میں اس کا ارادہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تمام پیشگوئیوں کو جمع کر دے جو میرے متعلق ہیں مگر چونکہ اس نے ایک کھلی سچائی کا انکار کیا اس لئے میں نے اسے لکھا کہ اب میرا انکار تمہیں دہریت کی حد تک پہنچا کر رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ ایک مہینہ کے اندر اندر د ہر یہ ہو گیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد ایک دفعہ وہ میرے پاس آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر بحث کرنے لگا۔میں نے اسے کہا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کو جانے دو تم یہ بتاؤ کہ میں نے تمہارے متعلق جو پیشگوئی کی تھی وہ پوری ہوئی یا نہیں ؟ اس پر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔غیر مبائعین کے متعلق البام لَهُمَزَ فَنَّهُمْ پورا ہو گیا غیر مباھین کے پاس دوسری بڑی چیز جتھا تھی۔انہیں اس بات پر بڑا گھمنڈ تھا کہ جماعت کا پچانوے فیصدی حصہ ان کے ساتھ ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے انہی دنوں مجھ پر الہام نازل کیا کہ لَيُمَزِ قَنَّهُمُ “ اللہ تعالیٰ ان کو ضرور ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا چنانچہ خدا کی قدرت وہی خواجہ کمال الدین صاحب جن کے مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ ایسے گہرے تعلقات تھے کہ خواجہ صاحب اگر رات کو دن کہتے تو وہ بھی دن کہنے لگ جاتے اور وہ