انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 563

خلافت راشده انوار العلوم جلد ۱۵ ہیں۔اسی طرح ارتداد ملکانا کا فتنہ لے لو، رنگیلا رسول کے وقت کی ایجی ٹیشن کو لے لو۔یا ان بہت سی سیاسی اُلجھنوں کو لے لو جو اس دوران میں پیدا ہوئیں تمہیں نظر آئے گا کہ ہر مصیبت کے وقت خدا نے میری مدد کی، ہر مشکل کے وقت اس نے میرا ساتھ دیا اور ہر خوف کو اس نے میرے لئے امن سے بدل دیا۔میں کبھی بھی نہیں سمجھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ایسا عظیم الشان کام لے گا مگر میں اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ خدا نے میرے وہم اور گمان سے بڑھ کر مجھ پر احسانات کئے۔جب میری خلافت کا آغاز ہوا تو اس وقت میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں کوئی دین کی خدمت کرسکوں گا۔ظاہری حالات میرے خلاف تھے ، کام کی قابلیت میرے اندر نہیں تھی ، پھر میں نہ عالم تھا نہ فاضل ، نه دولت میرے پاس تھی نہ جتھا ، چنانچہ خدا گواہ ہے جب خلافت میرے سپرد ہوئی تو اس وقت میں یہی سمجھتا تھا کہ خدا کے عرفان کی نہر کا ایک بند چونکہ ٹوٹ گیا ہے اور خطرہ ہے کہ پانی ادھر اُدھر بہہ کر ضائع نہ ہو جائے ، اس لئے مجھے کھڑا کیا گیا ہے تا کہ میں اپنا مردہ دھڑ اس جگہ ڈال دوں جہاں سے پانی نکل کر بہہ رہا ہے اور وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہو جائے چنانچہ میں نے دین کی حفاظت کیلئے اپنا دھڑ وہاں ڈال دیا اور میں نے سمجھا کہ میرا کام ختم ہو گیا مگر میری خلافت پر ابھی تین دن بھی نہیں گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ کے نشانات بارش کی طرح برسنے شروع ہو گئے۔چنا نچہ علی گڑھ کا ایک نوجوان جس کی حالت یہ تھی اللہ تعالیٰ کا ایک عجیب نشان کہ وہ حضرت خلیفہ اول کے عہد میں ہی میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیاں جمع کرنے لگ گیا تھا اور اس کا دعوی تھا کہ یہ پیشگوئیاں اتنی زبردست ہیں کہ ان کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔وہ حضرت خلیفہ اول کی وفات سے بارہ تیرہ دن پہلے قادیان آیا اور یہ دیکھ کر کہ آپ کی حالت نازک ہے مجھے کہنے لگا کہ میں آپ کی بیعت کرنے کیلئے تیار ہوں۔میں نے کہا تم کیسی گناہ والی بات کر رہے ہو ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے خلیفہ کے متعلق گفتگو کرنا شرعاً بالکل ناجائز اور حرام ہے تم ایسی بات مجھ سے مت کرو۔چنانچہ وہ علی گڑھ واپس چلا گیا اور بارہ تیرہ دن کے بعد حضرت خلیفہ اول کی وفات ہو گئی۔وہ چونکہ حضرت خلیفہ اول سے اچھے تعلقات رکھتا تھا اس لئے جب آپ کی وفات پر اختلاف ہوا تو بعض پیغامیوں نے اسے لکھا کہ تم اس فتنہ کو کسی طرح دور کرو۔اس پر اس نے علی گڑھ سے مجھے تار دیا کہ فوراً ان لوگوں سے صلح کر لو ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔میں نے اسے جواب لکھا کہ تمہارا خط پہنچا تم تو مجھے یہ نصیحت کرتے ہو کہ میں ان لوگوں سے صلح کرلوں مگر میرے خدا نے مجھ پر